تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

لوگوں کو تین، پانچ، دس،بارہ، ختم قرآن دینا جائز ہے یا نہیں؟ تین بار سورہ اخلاص پڑھ کر ایک قرآن کا ثواب بخشنا جائز ہے یا نہیں؟ بخشہ ہوا قرآن مجید کا ہدیہ لینا جائز ہے یا نہیں؟

0
لوگوں کو تین، پانچ، دس،بارہ، ختم قرآن دینا جائز ہے یا نہیں؟  تین بار سورہ اخلاص پڑھ کر ایک قرآن کا ثواب بخشنا جائز ہے یا نہیں؟

رقم الفتوی : 557


السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 


امید کرتا ہوں آپ خیریت سے ہونگے اللہ پاک آپکو ہمیشہ خوش رکھے 


حضور آپکی بارگاہ میں سوال عرض ہے کہ 

کرناٹک کے اندر جیسے ہی شب برات آتی ہے تو 

یہاں کے لوگ ائمہ کرام کے پاس آکر قرآن پاک لکھوا کر لے جاتے ہیں 

اور اکثر ائمہ حضرات قرآن لکھ کر دیتے ہیں 

جب کہ اتنے قرآن پڑھے تو ہوتے نہیں ہیں 

اور امام لوگ بولتے ہیں کہ ہم تین بار سورہ اخلاص پڑھ کر ایک قرآن کا ثواب بھیج دیتے ہیں 

کیا ایسا کرنا درست ہے 


اور قرآن لکھنے کے بعد لوگ جو امام صاحب کو ہدیہ یعنی پیسے وغیرہ دیتے ہیں کیا ان پیسوں کا لینا درست ہے 


رہنمائ فرمائیں عین نوازش ہوگی 


السائل :  محمد شاہرخ رضا سوار رامپور یوپی

...........................................................................

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

صورت مسئولہ میں قرآن مجید لکھوانے سے یہ مقصد ہوتا ہے کہ پورا قرآن مجید پڑھوانا ہے اور ائمہ حضرات کو پورا قرآن مجید پڑھنا ضروری ہے اگر ائمہ حضرات تین بار سورہ اخلاص پڑھ کر ایک قرآن مجید کا ثواب بھیج دیتے ہیں تو ان لوگوں کے ساتھ دھوکا ہے اور ائمہ حضرات کا دھوکا دینا جائز نہیں ہے۔سنن ابن ماجہ میں ہے : عن ابي الحمراء قال: رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم مر بجنبات رجل عنده طعام في وعاء، فادخل يده فيه، فقال:" لعلك غششته من غشنا فليس منا"۔ ترجمہ: حضرت ابو الحمراء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ایک شخص کے پاس سے گزرے جس کے پاس ایک برتن میں گیہوں تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس گیہوں میں ڈالا پھر فرمایا: ”شاید تم نے دھوکا دیا ہے، جو ہمیں دھوکا دے تو وہ ہم میں سے نہیں ہے۔(ج/1كتاب التجارات، باب النہی عن الغش، صفحہ 614)۔البتہ اگر وہاں کے لوگ یہ جانتے ہیں کہ قرآن مجید لکھوانے سے ائمہ حضرات تین بار سورہ اخلاص پڑھ کر قرآن مجید کا ثواب بھیج دیتے ہیں کہ یا ائمہ حضرات ان سے کہہ دیتے ہیں کہ تین بار سورہ اخلاص پڑھ کر قرآن مجید کا ثواب بھیج دیتے ہیں تو یہ جائز ہے۔ 

(1)

قرآن پاک پڑھ کر اس پر اجرت لینا جائز نہیں، جیسے: بعض علاقوں میں کسی مرحوم یا مرحومہ کو ایصال ثواب کے لئے کسی حافظ کو بلاکر پورا قرآن یا اس کا کچھ حصہ پڑھواتے ہیں اور پڑھنے والے حافظ کو باقاعدہ طے کر اجرت دیتے ہیں، یہ شریعت میں بالکل ناجائز ہے اور اس طرح کسی مرحوم یا مرحومہ کو کوئی ثواب نہیں پہنچتا؛ کیوں کہ اس صورت میں جب قرآن پڑھنے والے نے پیسے کے لئے قرآن پڑھا تو خود اسی کو کچھ ثواب نہیں ملا، پس وہ کسی مرحوم یا مرحومہ کو کیا ایصال ثواب کرے گا؟ردالمحتار میں ہے : ولا نصح الإجارة لأجل الطاعات ولا في القراءة المجردة فإنه لا ضرورة فيها فالحاصل أن ما شاع في زماننا من القراءة الاجزاء بالأجرة لا يجوز لان فيه الأمر بالقراءة واعطاء الثواب للأمر والقراءة لأجل المال فاذا لم يكن للقارئ ثواب بعدم النية الصحية فاين يصل الثواب الي المستأجر ولولا الأجرة ما قرأ أحد لأحد في هذا الزمان بل جعلوا القرآن العظيم مكسبا ووسيلة الي جمع الدنيا۔ ( ملخصا ج 9 کتاب الاجارۃ، باب الاجارۃ الفاسدۃ صفحہ 76/77)۔

وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_

کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ

حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔

2/ رمضان المبارک 1444ھ

25/ مارچ 2023ء

 رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad