رقم الفتوی : 557
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
امید کرتا ہوں آپ خیریت سے ہونگے اللہ پاک آپکو ہمیشہ خوش رکھے
حضور آپکی بارگاہ میں سوال عرض ہے کہ
کرناٹک کے اندر جیسے ہی شب برات آتی ہے تو
یہاں کے لوگ ائمہ کرام کے پاس آکر قرآن پاک لکھوا کر لے جاتے ہیں
اور اکثر ائمہ حضرات قرآن لکھ کر دیتے ہیں
جب کہ اتنے قرآن پڑھے تو ہوتے نہیں ہیں
اور امام لوگ بولتے ہیں کہ ہم تین بار سورہ اخلاص پڑھ کر ایک قرآن کا ثواب بھیج دیتے ہیں
کیا ایسا کرنا درست ہے
اور قرآن لکھنے کے بعد لوگ جو امام صاحب کو ہدیہ یعنی پیسے وغیرہ دیتے ہیں کیا ان پیسوں کا لینا درست ہے
رہنمائ فرمائیں عین نوازش ہوگی
السائل : محمد شاہرخ رضا سوار رامپور یوپی
...........................................................................
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
صورت مسئولہ میں قرآن مجید لکھوانے سے یہ مقصد ہوتا ہے کہ پورا قرآن مجید پڑھوانا ہے اور ائمہ حضرات کو پورا قرآن مجید پڑھنا ضروری ہے اگر ائمہ حضرات تین بار سورہ اخلاص پڑھ کر ایک قرآن مجید کا ثواب بھیج دیتے ہیں تو ان لوگوں کے ساتھ دھوکا ہے اور ائمہ حضرات کا دھوکا دینا جائز نہیں ہے۔سنن ابن ماجہ میں ہے : عن ابي الحمراء قال: رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم مر بجنبات رجل عنده طعام في وعاء، فادخل يده فيه، فقال:" لعلك غششته من غشنا فليس منا"۔ ترجمہ: حضرت ابو الحمراء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ایک شخص کے پاس سے گزرے جس کے پاس ایک برتن میں گیہوں تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس گیہوں میں ڈالا پھر فرمایا: ”شاید تم نے دھوکا دیا ہے، جو ہمیں دھوکا دے تو وہ ہم میں سے نہیں ہے۔(ج/1كتاب التجارات، باب النہی عن الغش، صفحہ 614)۔البتہ اگر وہاں کے لوگ یہ جانتے ہیں کہ قرآن مجید لکھوانے سے ائمہ حضرات تین بار سورہ اخلاص پڑھ کر قرآن مجید کا ثواب بھیج دیتے ہیں کہ یا ائمہ حضرات ان سے کہہ دیتے ہیں کہ تین بار سورہ اخلاص پڑھ کر قرآن مجید کا ثواب بھیج دیتے ہیں تو یہ جائز ہے۔
(1)
قرآن پاک پڑھ کر اس پر اجرت لینا جائز نہیں، جیسے: بعض علاقوں میں کسی مرحوم یا مرحومہ کو ایصال ثواب کے لئے کسی حافظ کو بلاکر پورا قرآن یا اس کا کچھ حصہ پڑھواتے ہیں اور پڑھنے والے حافظ کو باقاعدہ طے کر اجرت دیتے ہیں، یہ شریعت میں بالکل ناجائز ہے اور اس طرح کسی مرحوم یا مرحومہ کو کوئی ثواب نہیں پہنچتا؛ کیوں کہ اس صورت میں جب قرآن پڑھنے والے نے پیسے کے لئے قرآن پڑھا تو خود اسی کو کچھ ثواب نہیں ملا، پس وہ کسی مرحوم یا مرحومہ کو کیا ایصال ثواب کرے گا؟ردالمحتار میں ہے : ولا نصح الإجارة لأجل الطاعات ولا في القراءة المجردة فإنه لا ضرورة فيها فالحاصل أن ما شاع في زماننا من القراءة الاجزاء بالأجرة لا يجوز لان فيه الأمر بالقراءة واعطاء الثواب للأمر والقراءة لأجل المال فاذا لم يكن للقارئ ثواب بعدم النية الصحية فاين يصل الثواب الي المستأجر ولولا الأجرة ما قرأ أحد لأحد في هذا الزمان بل جعلوا القرآن العظيم مكسبا ووسيلة الي جمع الدنيا۔ ( ملخصا ج 9 کتاب الاجارۃ، باب الاجارۃ الفاسدۃ صفحہ 76/77)۔
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔
2/ رمضان المبارک 1444ھ
25/ مارچ 2023ء
رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_

