رقم الفتوی : 558
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام ان مسئلوں کہ بارے میں ١ محرم کے مہینے میں بچوں کو تولنے کی منت؟ ٢ اور دس دن تک ننگے پیر چلنے کی منت ؟ ٣ تعزیہ بنانے کی منت کے بارے میں ان سب چیزوں کے کرنے پر شرعی حکم کیا ہوگا ،کیا یہ سب صحیح ہےیا غلط ،قران و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں
العارض : عبدالکریم رضوی اندور
..….................................................
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ : شرعی منت ماننے کی چند شرطیں ہیں جس کے ماننے سے شرعاً اس کا پورا کرنا واجب ہوتا ہے۔چند شرطیں یہ ہیں
(1)
ایسی چیز کی منّت ہو کہ اس کی جنس سے کوئی واجب ہو، عیادتِ مریض اور مسجد میں جانے اور جنازہ کے ساتھ جانے کی منت نہیں ہو سکتی۔
(2)
وہ عبادت خود بالذات مقصود ہو کسی دوسری عبادت کے لیے وسیلہ نہ ہو، لہٰذا وضو و غسل و نظرِ مصحف کی منّت صحیح نہیں۔
(3)
اس چیز کی منّت نہ ہو جو شرع نے خود اس پر واجب کی ہو، خواہ فی الحال یا آئندہ مثلاً آج کی ظہر یا کسی فرض نماز کی منّت صحیح نہیں کہ یہ چیزیں تو خود ہی واجب ہیں ۔
(4)
جس چیز کی منّت مانی وہ خود بذاتہٖ کوئی گناہ کی بات نہ ہو اور اگر کسی اور وجہ سے گناہ ہو تو منّت صحیح ہو جائے گی، مثلاً عید کے دن روزہ رکھنا منع ہے، اگر اس کی منّت مانی تو منّت ہو جائے گی اگر چہ حکم یہ ہے کہ اُس دن نہ رکھے، بلکہ کسی دوسرے دن رکھے کہ یہ ممانعت عارضی ہے یعنی عید کے دن ہونے کیوجہ سے، خود روزہ ایک جائز چیز ہے۔
(5)
ایسی چیز کی منت نہ ہو جس کا ہونا محال ہو، مثلاً یہ منت مانی کہ کل گزشتہ میں روزہ رکھوں گا یہ منت صحیح نہیں۔
صورت مسئولہ میں محرم کے مہینے میں بچوں کو تولنے کی منت، دس دن تک ننگے پیر چلنے کی منت ایسی منت مانگنا جائز نہیں۔اور تعزیہ جس طرح رائج ہے ضرور بدعت شنیعہ ہے،اور ایسی تعزیہ بنانے کی منت مانگنا جائز نہیں ہے۔اور ایسی منت جو گناہ پر مشتمل ہو اسے پورا کرنا بھی جائز نہیں۔صحیح بخاری میں ہے : عن عائشة رضي اللہ عنها، عن النبي صلى اللہ عليه وسلم قال : من نذر ان یطیع اللہ فليطعه، ومن نذر أن يعصيه فلا يعصه “ ترجمہ: حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو یہ منّت مانے کہ ﷲ کی اطاعت کرے گا،تو اس کی اطاعت کرے (یعنی منّت پوری کرے) اور جو اس کی نافرمانی کرنے کی منّت مانے، تو اس کی نافرمانی نہ کرے( یعنی اس منّت کو پورانہ کرے)۔(ج2/کتاب الایمان و النذور،باب النذر فی الطاعۃ، صفحہ 522)۔البحر الرائق شرح كنز الدقائق میں ہے : واعلم بأنهم صرحوا بأن شرط لزوم النذر ثلاثة كون المنذور ليس بمعصية وكونه من جنسه واجب وكون الواجب مقصودا لنفسه قالوا فخرج بالأول النذر بالمعصية والثاني نحو عيادة المريض والثالث ما كان مقصودا لغيره حتى لو نذر الوضوء لكل صلاة لم يلزم وكذا لو نذر سجدة التلاوة.
(ج2/كتاب الصوم، باب مايفسد الصوم ومالايفسده، صفحہ 316)
۔وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔
27/ ذی الحجہ 1445ھ
04/ جولائی 2024ء
رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_

