رقم الفتوی : 559
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام کہ
لال رنگ کا جھنڈا اپنے گھروں پہ یا مسجد پہ محرم شریف کے مہینے میں امام حسین کے نام پر لگانا کیسا ہے تفصیل و دلیل کے ساتھ جواب دیں مہربانی ہوگی
سائل. محمد غفران رضا. بنگال
.............................................................
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ : لال رنگ کا جھنڈا اپنے گھروں پہ یا مسجد پہ محرم شریف کے مہینے میں امام حسین کے نام پر لگانا جائز و درست ہے جبکہ یہ بتانا مقصود ہو کہ یہ اسلامی مہینہ ہے اور اہل بیت کی یادیں تازہ ہوں۔اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ والرضوان فتاویٰ رضویہ میں ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں : جھنڈا ایک تو جہاد کا ہوتا ہے وہ لشکر سلطانِ اسلام کے ساتھ خاص ہے یہاں اس کا اصل محل نہیں کہ یہاں نہ سلطان اسلام نہ لشکر اسلام تو اس جھنڈے کا کیا کام۔ اور اگر کسی اور غرض سے کوئی جھنڈا بنایا جاتا ہو تو اس کا معلوم ہونا چاہئے، اگر غرض محمودہ اور اس میں شہرت اور علامت کی حاجت ہے تو حرج نہیں۔ وقدحققنا فی فتاوٰنا (اس کی تحقیق ہم نے اپنے فتاوٰی میں کر دی ہے۔) اور اگر غرض مذموم یا عبث و فضول ہے تو منع کرنا ٹھیک ہے۔( جلد 24/ صفحہ 491)۔۔
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔
6/ محرم الحرام 1446ھ
13/ جولائی 2024ء
رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_

