رقم الفتوی : 573
السلامُ علیکم
کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسلے میں کی مسجد کے سامنے روڈ پر ضعیف عورت و مرد سال بھر بیٹھے رہتے ہیں اور سوال کرتے ہیں کیا انہیں زکوٰۃ دے سکتے ہیں
سائل : محمد ارشد عطاری جھارکھنڈ
................................................................
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ : اگر وہ زکوٰۃ کے مستحق ہیں تو انہیں دے سکتے ہیں۔قرآن مجید میں ہے :اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَ الْمَسٰكِيْنِ وَ الْعٰمِلِيْنَ عَلَيْهَا وَ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَ فِي الرِّقَابِ وَ الْغٰرِمِيْنَ وَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَ ابْنِ السَّبِيْلِ فَرِيْضَةً مِّنَ اللّٰهِ وَ اللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ۔ ترجمہ: صدقات فقرا و مساکین کے لیے ہیں اور انکے لیے جو اس کام پر مقرر ہیں اور وہ جن کے قلوب کی تالیف مقصود ہے اور گردن چھڑانے میں اور تاوان والے کے لیے اور ﷲ (عزوجل) کی راہ میں اور مسافر کے لیے، یہ ﷲ (عزوجل) کی طرف سے مقرر کرنا ہے اور ﷲ (عزوجل) علم و حکمت والا ہے۔(پارہ 10 سورہ توبہ آیت 60)۔
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔
9/ رمضان المبارک 1445ھ
20/ مارچ 2024ء
رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_

