رقم الفتوی : 576
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ہندو آدمی کو پیسے دینا اور اس سے سود لینا کیسا ہے؟ اگر لیا جائے تو کیا یہ جائز ہوگا یا ناجائز
قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں ۔
سائل_محمد شرافت حسین جامتارا جھارکھنڈ انڈیا
............................................................
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ : ہندو آدمی کو پیسے روپیہ دیکر اس سے زیادہ لینا جائز ہے اگر چہ شرط کے ساتھ ہو، اگر چہ ہندو آدمی سود ہی کہہ کر دے مگر مسلمان زیادتی سود سمجھ کر نہ لے بلکہ ایک مال مباح سمجھ کر لے۔ اس لیے کہ مسلمان اور غیر مسلم کے مابین سود کا تحقق نہیں۔حدیث پاک میں ہے : قوله عليه السلام لاربابين المسلم والحربي في دارالحرب۔ ترجمہ: مسلمان اور حربی کے درمیان دار الحرب میں کوئی سود نہیں (ہدایہ ج2 باب الربا صفحہ 86) فتح القدیر میں ہے : ولأبي حنيفة ومحمد ماروي مكحول عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال ولاربابين المسلم والحربي في دارالحرب ذكره محمد بن الحسن ولأن مال اهل الحرب في دارهم مباح بالاباحةالاصلية والمسلم المستأمن إنما منع من أخذه لعقدالامان حتى لا يلزم الغدر فاذابذلك الحربي ماله برضاه زال المعني الذي حظر لأجله.( ج7 باب الربا صفحہ 39) بحر الرائق میں ہے : الحديث لا ربا بين المسلم والحربي في دارالحرب ولأن مالهم مباح يعقد الامان منهم لم يصرمعصوما الا انه التزم أن لا يعترض لهم بغدر.( ج 6 باب الربا صفحہ 226) درمختار مع ردالمحتار میں ہے : و لا بين حربي ومسلم مستأمن ولو بعقد فاسد أو قمار ثمة لان ماله ثمة فيحل برضاه مطلقاً بلا غدر لان ماله غير معصوم فلا ربا إتفاقا ولم يهاجرا لا يستحق الربا بينهما أيضا. ( ملخصا ج7 باب الربا صفحہ 423)۔اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ فتاویٰ رضویہ میں تحریر فرماتے ہیں : یہاں کے کفار سے ایسی شرط جائز ہے لانھم غیر اھل ذمة ولامستامن (کیونکہ نہ تو وہ ذمی ہیں نہ مستامن) مگر یہ زیادت جو ملے اسے سود سمجھ کر نہ لے بلکہ مال مباح۔(۲) یہاں کے کفار سے جس طور ہو جائز ہے۔لان مالھم مباح فی دارھم فبای طریق اخذہ المسلم اخذ مالا مباحا إذا لم یکن فیه غدر کما فی الھدایۃ و غيرها. ترجمہ : اس لئے کہ کفا رکا مال دار الحرب میں مباح ہے لہٰذا جس طریقے سے بھی مسلمان نے اس کو لیا تو اس نے مباح مال لیا بشرطیکہ دھوکا بازی نہ ہو، جیسا کہ ہدایہ وغیرہ میں ہے۔ ( جلد 17 صفحہ 350)۔
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔
9/ جمادی الاخری 1445ھ
23/ دسمبر 2023ء
رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_

