تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

مکتب میں زکوٰۃ، فطرہ لگا سکتے ہیں یا نہیں؟ مکتب میں زکوٰۃ فطرہ دے سکتے ہیں یا نہیں؟

0


مکتب میں زکوٰۃ، فطرہ لگا سکتے ہیں یا نہیں؟

رقم الفتوی : 577




السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام

کیا مکتب کے مدرسوں میں زکوٰۃ اور فطرہ کی رقم استعمال کر سکتے ہیں اگر کرسکتے ہیں تو کیسے ؟

اور اگر نہیں کرسکتے ہیں تو پھر پڑھانے والے اساتذہ کی تنخواہوں کو ادا کرنے میں دشواری پیش آتی ہے


سائل ۔سرور رضا نوری‌

.....................................................

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

الجواب بعونہ تعالیٰ : اگر واقع ہی مکتب

میں بچوں کو قرآن شریف اور خالص دینیات کی تعلیم دی جاتی ہو اور زکوٰۃ و فطرہ کی رقم حیلئہ شرعی سے لگائے بغیر بچوں کا مکتب چل نہیں سکتا تو بدرجئہ مجبوری حیلئہ شرعی کرنے کے بعد استعمال کر سکتے ہیں۔اگر بچوں کے فیس سے چل سکتا ہوں تو فیس لے کر چلائیں۔زکوٰۃ و فطرہ کی رقم سے نہیں۔مدارس عربیہ میں ضرورت اس لئے پڑی کہ مدارس اسلامیہ کی بقا وتحفظ کا اصل مدار اہل ثروت کی عطیات و خیرات پر ہے اب رفتہ رفتہ اہل ثروت سے دینی حمیت،مالی تعاون اور صدقات نافلہ کا رجحان ختم ہوتا جارہا ہے تو دینی مدارس اسلامیہ کی بقا وتحفظ کی خاطر ہمارے فقہائے کرام نے دینی مدارس اسلامیہ کے لئے زکوٰۃ کی رقم کو حیلہ شرعی کرکے استعمال کرنے کو جائز قرار دیا ہے تاکہ اسلام کے یہ مراکز بر قرار رہیں اور محصل سے لے کر انتظامیہ تک ہر شخص حرام کے ارتکاب سے بچ سکے۔مبسوط میں ہے : ما يتخلص به الرجل من الحرام و يتوصل به الي الحلال. ترجمہ : جس کے ذریعہ انسان حرام سے چھٹکارا پاکر حلال تک پہنچے۔ ( ج 30 صفحہ 230 دار الکتب العلمیۃ بیروت)۔الاشباہ و النظائر میں ہے : التکفین بھا التصدق علی الفقیر ثم ھو یکفن فیکون الثوب لھما کذا فی تعمیر المساجد.ترجمہ : اس کے ذریعہ کفن دینا فقیر پر صدقہ کرنا ہے پھر اس کو کفن دیا جاتا ہے تو ثواب دونوں کو ملے گا ۔ اسی طرح مساجد کی تعمیر بھی۔(ج3/کتاب الحیل، الفصل الثالث، صفحہ 298)فتاوی رضویہ میں ہے : اگر روپیہ بہ نیت زکات کسی مصرف زکات کو دے کر مالک کردیں،وہ اپنی طرف سے مدرسہ کو دے دے تو تنخواہ مدرسین و ملازمین جملہ مصارف میں خرچ ہو سکتا ہے۔(جلد 10/صفحہ 259 )۔

وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_


کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ

حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔

16/ رمضان المبارک 1445ھ

27/ مارچ 2024ء

 رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad