رقم الفتوی : 585
السلام علیکم ورحمت اللہ وبر کاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ زید ایک پولیس ہے اور پولیس والے اکثر دکانداروں سے اور آٹو والوں سے ہفتہ وصولی کرتے ہیں
تو زید نے ہفتہ وصولی کے لیے بکر کو تنخواہ پر رکھ لیا ہے بکر یہ کام کر رہا ہے کچھ دنوں کے بعد بکر نے یہ سوچا کہ میں اپنی تنخواہ میں سے کچھ روپے مسجد کے امام وموذن کو ہر مہینہ دیا کروں توکیا بکر کا یہ پیسہ امام ومو ذن کو لینا درست ہے کہ نہیں
جو اب عنایت فرما کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں نواز ش ہوگی
سائل : محمد جابر برکاتی سورت گجرات
..............................................................
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ : ایسے شخص کا دکانداروں سے اور آٹو والوں سے ہفتہ وصولی کرنا جائز نہیں۔
اور ناجائز کام پر نوکری کرنا جائز نہیں۔ اس لئے کہ جو بھی براہِ راست معاون و مدد گار بنے گا وہ بھی اس جرم میں شامل کہلائے گا اور وہ بھی گناہ گار ہوگا۔اللہ تبارک و تعالیٰ قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے : وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪-وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪- ( ترجمہ: اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو۔(پارہ 6/ سورۃ المائدۃ،آیت 2)۔
لہذا صورت مسئولہ میں بکر کا بعینہ وہی مال دینا جائز نہیں۔اگر لینے والے کو معلوم ہو کہ یہ مال بعینہٖ وہی ہے تو اسے لینا ہر گز روا نہیں۔ اگر لینے والے کو معلوم ہو کہ جو اس نے دیا خاص اس مال حلال سے تھا اس کے لینے میں کوئی حرج نہیں۔ اور اگر معلوم ہو کہ یہ مال جو اس نے دیا اگر چہ عین حرام نہیں مگر اس میں مال حلال و حرام اس طرح سے ملے ہوئے ہیں کہ تمیز نہیں ہو سکتی یا ہو تو بدقت تمام ہو تو اس صورت میں جس قدر مال وجہ حلال سے تھا اس قدر لینا تو بلاشبہ جائز ہے۔یہ سب صورتیں اس وقت تھیں جب اسے اس مال کا حال معلوم ہو، ورنہ تو اس صورت میں فتویٰ جواز ہے کہ اصل حلت ہے، جب تک خاص اس مال کی حرمت نہ ظاہر ہو، لینے سے منع نہ کریں گے، بالجملہ جسے اپنے دین وتقویٰ کا کامل پاس ہو وہ غلبہ حرام کی صورت میں احتراز ہی کرے جب تک خاص اس شیئ کی حلت کا پتہ نہ چلے ورنہ فتویٰ تو جواز ہی ہے۔فتاویٰ ہندیہ میں ہے : عن الامام الفقیه ابی اللیث اختلف الناس فی اخذ الجائزۃ من السلطان قال بعضھم یجوز مالم یعلم انه یعطیه من حرام، قال محمد رحمه ﷲ تعالى وبه ناخذ مالم نعرف شیئا حراما بعینه وھو قول ابی حنیفة رحمه ﷲ تعالى واصحابه" ترجمہ : فقیہ ابواللیث سے روایت ہے بادشاہ سے انعام لینے کے بارے میں لوگوں کا اختلاف ہے، بعض نے فرمایا کہ لینا جائز ہے جب تک یہ معلوم نہ ہو کہ وہ مالِ حرام سے دیتا ہے، امام محمد نے فرمایا ہم اسی کو لیتے ہیں جب تک کسی معین شیئ کے حرام ہونے کی شناخت نہ ہو، امام ابوحنیفہ اور ان کے ساتھیوں کا یہی قول ہے۔(ج 5 کتاب الکراھیۃ الباب الثانی عشر، صفحہ 342)فتاویٰ قاضی خان میں ہے : رجل دخل علی سلطان فقدم علیه شیئ من الماکولات قالوا ان اکل منها لاباس به اشتراہ بالثمن أولم یشتر الا ان ھذا الرجل ان کان یعلم انه غصب بعینه فانه لایحل له ان یاکل من ذٰلک.وفیھا ان لم یعلم الاٰخذ انه من ماله أو من مال غیرہ فھو حلال حتی یتبین انه حرام" ترجمہ : ایک آدمی بادشاہ کے پاس گیا تو اس کے آگے کچھ کھانے کی چیزیں لائی گئیں، فقہاء نے فرمایا کہ اگر وہ یہیں کھائے تو اس میں کوئی حرج نہیں خواہ اس نے قیمت سے خریدی ہوں یا نہ خریدی ہوں، مگر جب یہ شخص جانتاہو کہ یہ بعینہٖ غصب ہے تو پھر اس کے لئے حلال نہیں کہ انہیں کھائے، کہ اگر لینے والا یہ نہ جانے کہ وہ لی ہوئی چیز دینے والے کے اپنے مال سے ہے یا کسی دوسرے کے مال سے ہے تو پھر وہ حلال ہے حتی کہ یہ ظاہر ہو جائے کہ وہ حرام ہے۔ ( ج 4 کتاب الحظر و الاباحۃ صفحہ 778) رد المحتار میں ہے : سئل ابو جعفر عمن اکتسب ماله من امر السلطان والغرامات المحرمة وغیر ذٰلک ھل یحل لمن عرف ذٰلک ان یاکل من طعامه قال احب الی فی دینه ان لایاکل ویسعه حکما ان لم یکن غصبا او رشوۃ " ترجمہ : امام ابوجعفر سے اس آدمی کے متعلق پوچھا گیا کہ جو امر سلطان سے مال کماتا ہے اور اس میں حرام وغیرہ جرمانے بھی شامل ہوتے ہیں لہٰذا جو شخص ان معاملات کو جانتا پہچانتا ہو کیا اس کے لئے حلال ہے کہ وہ اس کا کھانا کھائے، تو انہوں نے فرمایا کہ اس کے دین کے معاملے میں مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ وہ نہ کھائے، اور اس کے لئے اس بات کی حکماً گنجائش ہے اگر وہ غصب یارشوت نہ ہو۔( ج6 کتاب الحظر و الاباحۃ، فصل فی البیع، صفحہ385 )۔غمز عیون البصائر مع الاشباہ والنظائر میں ہے : عن الفقیه ابی جعفر وحاشیة السیدی الحموی علی الاشباہ من قاعدۃ اذا اجتمع الحلال والحرام غلب الحرام وکون الغالب فی السوق الحرام لایستلزم کون المشتری حراما لجواز کونه من الحلال المغلوب و الاصل الحل" ترجمہ : فقیہ ابوجعفر سے روایت ہے الاشباہ والنظائر پرسید حموی کے حاشیہ میں ایک قاعدہ مذکور ہے کہ جب حلال اور حرام جمع ہو جائیں تو حرام غالب ہوگا اور بازار میں حرام کا غالب ہونا اس بات کو مستلزم نہیں کہ جو چیز خریدی گئی وہ حرام ہو اس لئے کہ یہ جائز ہے کہ خریدی ہوئی چیز حلال مغلوب ہو حالانکہ حِل اصل ہے۔( مخلصا الفن الاول، صفحہ 93)۔
۔وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔
21/ جمادی الاخری 1445ھ
3/ جنوری 2024ء
رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_

