رقم الفتوی : 586
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں
ایک مسجد میں نائب امام ہے
قرآن درست نہیں پڑھتا ہے
اور وہ دیوبند لڑکے کا نکاح بھی پڑھایا ہے
امام نہیں رہنے پر نماز نائب امام پڑھاتا ہے کیا اسکے پیچھے نماز ہوگی یا نہیں ہوگی
نوٹ _ اگر پڑھ لیا تو کیا اسکے صورت ہے
قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں ۔
سائل_محمد شرافت حسین جامتارا جھارکھنڈ انڈیا
......................................................
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ : اگر واقعی نائب امام کی مخارج درست نہیں ہے کہ جس سے معنی فاسد ہو جائے تو ایسے کو امام بنانا جائز نہیں۔ اور جس نے پڑھ لی اسے لوٹانا واجب۔
(ا)
وہابی، دیوبندی ضروریات دین کے منکر ہیں جس کی بنا پر عرب وعجم کے سیکڑوں علمائے کرام و مفتیان عظام نے انہیں کافر و مرتد قرار دیا اور بالاتفاق فرمایا۔من شك في كفره وعذابه فقد كفر" یعنی جو ان کے عقائد پر مطلع ہوتے ہوئے ان کے کفر و عذاب میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔ صورت مسئولہ میں اگر نائب امام ان کے عقائد پر مطلع ہو کر انہیں مسلمان جانتے ہوئے یا ان کے کفر میں شک کرتے ہوئے نکاح پڑھایا ہو تو وہ بھی کافر ہے اس پر لازم ہے کہ وہ از سرے نو ایمان لائے اگر وہ بیوی والا ہو تو تجدید نکاح بھی کرے۔ایسے لوگوں کا نکاح پڑھانا جائز نہیں ہے۔البتہ اگر نائب امام کو ان کے عقائد کے بارے میں اجمالاً خبر نہیں صرف اتنا معلوم ہے کہ یہ برے لوگ بد عقیدہ بد مذہب ہیں پھر بھی ان کا نکاح پڑھانا سخت حرام ہے۔وہ بھی توبہ واستغفار کرے۔اور یہ اعلان کرے کہ یہ نکاح منعقد ہوا نہیں ہے۔فتاوی ہندیہ میں ہے : لایجوز للمرتد ان یتزوج مرتدة ولا مسلمة ولا كافرة اصلية وكذالك لايجوز نكاح المرتدة مع احد کذالک فی المبسوط۔( ج1 کتاب النکاح، القسم السابع المحرمات بالشرک صفحہ 282)۔
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔
22/ جمادی الاخری 1445ھ
4/ جنوری 2024ء
رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_

