تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

شادی میں جو مہر دی جاتی ہے کیا یہ ضروری ہے؟ شہر اور دیہات میں جو مہر رائج ہے کیا الگ الگ ہے؟ کسی نے مہر ادا کیئے بینا انتقال ہوگیا ہو تو؟

0


شادی میں جو مہر دی جاتی ہے کیا یہ ضروری ہے؟


رقم الفتوی : 587

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں
شادی میں جو مہر دی جاتی ہے کیا یہ ضروری ہے  جو مہر کی قسمیں ہیں کیا شہر    اور دیہات میں الگ الگ رائج ہے کیا
اسکی تفصیل میں جانکاری دے

نوٹ_اگر کسی نے مہر ادا کیے بینا انتقال ہوگیا اسکی کیا صورت ہے
قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں ۔


سائل_محمد شرافت حسین جامتارا جھارکھنڈ انڈیا
........................................................

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ : ہاں جو شادی میں مہر دی جاتی ہے وہ واجب ہے اور اس کی مقدار کم سے کم دس درہم (یعنی دو تولہ ساڑھے سات ماشہ ( 30. 618 گرام ) چاندی یا اُس کی قیمت،اس سے کم نہیں ہوسکتا ہے اور زیادتی کی کوئی حد متعین نہیں۔بدائع الصنائع میں ہے :و اما بیان أدنی المقدار الذی یصلح مھرا : فأدناہ عشرۃ دراھم أو ما قیمتہ عشرۃ دراھم و ھذا عندنا ۔( ج3 کتاب النکاح، فصل فی أقل المھر صفحہ 487)بحر الرائق میں ہے :صح النکاح بلا ذکرہ و أقله عشرۃ دراھم ۔( ج3کتاب النکاح ،باب المھر صفحہ 249) درمختار میں ہے:أقله عشرۃ دراھم لحدیث البیھقی وغیرہ لا مھر أقل من عشرۃ دراھم فضة وزن سبعة مثاقیل کما فی الزکوۃ مضروبة کانت أو لا  ( ج4 کتاب النکاح، باب المھر صفحہ/332/330 )فتاوی ہندیہ میں ہے :أقل المھر عشرۃ دراھم مضروبة أو غیر مضروبة حتی یجوز وزن عشرۃ تبرا و ان کانت قیمته أقل کذا فی التبین۔(ج1 الباب السابع فی المھر صفحہ 302)۔فتاویٰ رضویہ میں ہے : کم سے کم مہر دس10 ہی درہم ہے یعنی دو2 تولے ساڑھے سات ماشے چاندی، الخ۔ اور چاندی کے علاوہ اور کوئی چیز دے تو دو2 تولے ساڑھے سات ماشہ چاندی کی قیمت معتبر ہوگی(ملخصا جلد 12/ صفحہ 162)بہار شریعت جلد دوم میں ہے: کم سے کم دس درم (یعنی دو تولہ ساڑھے سات ماشہ (30۔618گرام ) چاندی یا اُس کی  قیمت)ہے اس سے کم نہیں ہوسکتا،( ج7 مہر کا بیان صفحہ 64 )۔ بہار شریعت جلد دوم میں ہے : مہر کم سے کم دس ۱۰ درم ہے اس سے کم نہیں ہوسکتا، جس کی مقدار آج کل کے حساب سے۱۲ عا، ۹ ۳/۵ پائی ہے خواہ سکّہ ہو یا ویسی ہی چاندی یا اُس قیمت کا کوئی سامان۔( حصہ 7/ صفحہ 65)۔اسی میں ہے : نکاح میں دس ۱۰ درہم یا اس سے کم مہر باندھا گیا ،تو دس ۱۰ درہم واجب اور زیادہ باندھا ہو تو جو مقرر ہوا واجب۔( حصہ 7/ صفحہ 66)۔
(ا) مہر کی تین قسم ہے اول مہر معجل کہ خلوت سے پہلے مہر دینا قرار پایا ہے۔اور دوم مہر مؤجل جس کے لیے کوئی میعاد مقرر ہو۔ اور سوم مہر مطلق جس میں نہ وہ ہو، نہ یہ، یعنی نہ خلوت سے پہلے دینا قرار پایا ہو،نہ ہی اس کے لئے کوئی مدت مقرر ہو۔بہار شریعت جلد دوم میں ہے : مہر تین قسم ہے : (1) معجل کہ خلوت سے پہلے مہر دینا قرار پایا ہے۔اور (2) مؤجل جس کے لیے کوئی میعاد مقرر ہو۔ اور(3) مطلق جس میں نہ وہ ہو، نہ یہ۔( حصہ 7/ صفحہ 66)۔
لہذا جو مہر شہر اور دیہات میں رائج ہے وہ یہی تینوں قسموں میں سے ہے اور یہی باندھتے ہیں۔ وہ الگ الگ نہیں ہے۔
(ب) 
پورا مہرِ مقررہ ادا کرنا لازم ہے اور مہر کا حقدار ان کے وارثین ہیں اور وراثین ہی اپنی میراث کا حقدار ہیں۔اگر اس کے بالغ وارثین اجازت دے دیں تو اس کے نام سے ایصالِ ثواب کرے۔ملتقی الابحر شرح مجمع الانہر میں ہے : للولی انکح الصغیرہ والصغیرۃ فان مات احدھما ورثه الاٰخر بلغا اولا ویجب المہر کله وان مات قبل الدخول" ترجمہ : ولی کو نابالغہ لڑکے اور لڑکی کے نکاح کردینے کا اختیار ہے۔پھر اگر دونوں میاں بیوی میں سے کوئی فوت ہوجائے تو دوسرا وارث ہوگا اور پورا مہر واجب ہوگا بالغ ہوں یا نابالغ، اگر چہ وہ دخول سے قبل ہی فوت ہوگیا ہو۔(ج1/ باب الاولیاء والاکفاء، صفحہ 325)۔فتاویٰ رضویہ میں ہے : وارثانِ زن میں جو عاقل بالغ معاف کرے گا اُس کا حصّہ معاف ہوجائے گا اگر سب عاقل بالغ ہوں اور سب معاف کردیں تو سب معاف ہوجائے گا۔ ( جلد 12/ صفحہ 177)۔

وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_

کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔
22/ جمادی الاخری 1445ھ
4/ جنوری 2024ء   
 رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_  

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad