رقم الفتوی : 588
السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
مسئلہ ذیل کے بارے میں کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین۔کہ ہمارے یہاں شادیوں میں عورتیں ہلدی رسم مناتی ہیں جس میں سبھی ہلدی رنگ کے کپڑے پہنتی ہیں اور ڈی جے وغیرہ بجاتے ہے پھر ہلدی لگاتی ہیں۔
جواب عنایت فرمایئں آپکی مہربانی ہوگی
منجانب : مولانا انوارالحق بھوجاگاوں اسلام پور بنگال
...................................................
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ : اگر سبھی لوگ شادی کی فرحت وسرور کی وجہ سے پہنتے یا پہنتی ہو تو محمود ہے۔اور تکبر و تفاخر بالدنیا کی نیت سے ہو تو حرام ہے۔ صحیح البخاری میں ہے : وانما الاعمال بالنیات وانما لکل امرء مانوی۔ ترجمہ : اعمال کا مدار نیتوں پر ہے ہر شخص کے لئے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیت کی۔ (ج1/ باب کیف کان بدء الوحی الخ صفحہ 2)۔اور شادی کے موقع پر لڑکی یا لڑکے کو خوبصورتی یا جلد کی صفائی کے لیے ہلدی لگانے میں حرج نہیں،جبکہ اس میں کوئی کام خلاف شرع نہ ہو۔اور اگر اس رسم میں کوئی خلاف شرع کام ہو مثلاً مردوں اور عورتوں کا اختلاط، بے پردگی، پھر اجنبی عورتوں کا دولہے کو ہلدی لگانا وغیرہ معاملات ہوں تو ایسی رسم، ناجائز و حرام ہو گی۔اور ڈی جے ڈھول بجانا بھی حرام ہے۔فتاویٰ رضویہ میں ہے : اپنی تقریبوں میں ڈھول جس طرح فساق میں رائج ہے بجوانا، ناچ کرانا حرام ہے۔( جلد 23/صفحہ 98)۔اسی طرح کے ایک رسم کے بارے میں فتاویٰ رضویہ میں اعلی حضرت علیہ الرحمہ والرضوان تحریر فرماتے ہیں کہ اسی طرح یہ گانے بجانے کہ ان بلاد میں معمول ورائج ہیں بلا شبہہ ممنوع وناجائز ہیں خصوصا وہ ناپاک وملعون رسم کہ بہت خران بے تمیز احمق جاہلوں نے شیاطین ہنود ملاعین بے بہبود سے سیکھی یعنی فحش گالیوں کے گیت گوانا اور مجلس کے حاضرین وحاضرات کو لچھے دار سنانا سمدھیانہ کی عفیف و پاکدامن عورتوں کو الفاظ زنا سے تعبیر کرنا کرانا خصوصا اس ملعون بے حیا رسم کا مجمع زنان میں ہونا ان کا اس ناپاک فاحشہ حرکت پر ہنسنا، قہقہے اڑانا، اپنی کنواری لڑکیوں کو یہ سب کچھ سناکر بدلحاظیاں سکھانا، بے حیا، بے غیرت، خبیث ، بے حمیت مردوں کا اس شہدہ پن کو جائز رکھنا، کبھی برائے نام لوگوں کو دکھاوے کہ جھوٹ سچ ایک آدھ بار جھڑک دینا، مگر بندوبست قطعی نہ کرنا، یہ وہ شنیع ، گندی اور مردود رسم ہے جس پر صدہا لعنتیں اللہ عزوجل کی اترتی ہیں اس کے کرنے والے اس پر راضی ہونے والے۔ اپنے یہاں اس کا کافی انسداد نہ کرنے والے سب فاسق فاجر، مرتکب کبائر مستحق غضب جبار و عذاب نار ہیں والعیاذ باللہ تبارک وتعالی، اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ہدایت بخشے آمین، جس شادی میں یہ حرکتیں ہوں مسلمانوں پر لازم ہے کہ اس میں ہر گز شریک نہ ہوں اور اگر نادانستہ شریک ہوگئے تو جس وقت اس قسم کی باتیں شروع ہوں یا ان لوگوں کا ارادہ معلوم ہو تو سب مسلمان مردوں عورتوں پر لازم ہے کہ فورا اسی وقت اٹھ جائیں اور اپنی جورو بیٹی ، ماں، بہن کو گالیاں نہ دلوائیں، فحش نہ سنوائیں، ورنہ یہ بھی ان ناپاکیوں میں شریک ہوں گے اور غضب الٰہی سے حصہ لیں گے والعیاذ باللہ رب العالمین ۔ زنہار زنہار اس معاملہ میں حقیقی بہن بھائی بلکہ ماں باپ کی بھی رعایت ومروت روانہ رکھیں کہ : لاطاعۃ لاحد فی معصیۃ ﷲ تعالی۔ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں۔( جلد 23/ صفحہ 281)۔
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔
26/ جمادی الاخری 1445ھ
8/ جنوری 2024ء
رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_

