رقم الفتوی : 589
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں گھر والوں نے شادی میں مہر فیکس کردی اور لڑکا کو لگا کے یے زیادہ ہے تو لڑکا نے لڑکی سے مہر اپنے مطابق کرا لیے اور گھر والو کو معلوم نہیں چلا کیا اس صورت میں مہر ادا ہوگی یا نہیں۔
قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں ۔
سائل_محمد شرافت حسین جامتارا جھارکھنڈ انڈیا
.........................................................
الجواب بعونہ تعالیٰ : لڑکا لڑکی اپنی رضا مندی سے طے شدہ مہر میں کم زیادتی کر سکتے ہیں اور اس میں کوئی حرج نہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهٖ مِنْهُنَّ فَاٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ فَرِيْضَةًؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيْمَا تَرٰضَيْتُمْ بِهٖ مِنْۢ بَعْدِ الْفَرِيْضَةِؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًا۔ ترجمہ : جن عورتوں سے نکاح کرنا چاہو، ان کے مہر مقرر شدہ اُنھیں دو اور قرار داد ( طے شدہ ) کے بعد تمھارے آپس میں جو رضا مندی ہو جائے، اس میں کچھ گناہ نہیں۔بیشک اللہ (عزوجل) علم و حکمت والا ہے۔( سورہ نساء، آیت 24) اسی آیت کے تحت صدر الافاضل حضرت علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مرادآبادی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں : خواہ عورت مہر مقرر شدہ سے کم کر دے یا بالکل بخش دے یا مرد مقدار مہر کی اور زیادہ کر دے۔( سورہ نساء، آیت 24)۔
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔
3/ رجب المرجب 1445ھ
15/ جنوری 2024ء
رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_


Kya baat hai mashaallah
ReplyDelete