تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

فرض کے چاروں رکعت میں سورت کا ملانا ضروری ہے یا نہیں؟

0
فرض کے چاروں رکعت میں سورت کا ملانا ضروری ہے یا نہیں؟

رقم الفتوی : 590


السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ

حضرت جیسے کی چار رکعت والی نماز فرض پڑھ رہے ہیں تو دو رکعت میں الحمد کے ساتھ سورت ملانا ہے اور دو رکعت میں کیا کرنا ہے حضرت

جواب عنایت فرمائیں

سائل : بندئہ خدا

.............................................

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

الجواب بعونہ تعالیٰ : فرض کے چار رکعت والی نماز میں پہلے کے دو رکعت میں سورت کا ملانا واجب ہے۔ بعد کے دو رکعت میں صرف الحمد اللہ پڑھنا چاہئے یا اتنی دیر خاموش رہے۔سورت نہیں ملانا چاہئے۔درمختار مع رد المحتار میں ہے : ضم سورۃ فی الاولیین من الفرض وھل یکرہ فی الاخر یین المختار لا.لأن القراءة فیھما مشروعة من غیر تقدیر،والاقتصار علي الفاتحة مسنون لا واجب۔(ج2/ کتاب الصلاۃ ، باب صفۃ الصلاۃ، صفحہ 150)۔فتاویٰ رضویہ میں ہے : فرض ہوئی اور نماز میں کچھ خلل نہ آیا ، نہ اس پر سجدہ سہو تھا بلکہ اگر قصدا بھی فرض کی پچھلی رکعتوں میں سورت ملائی تو کچھ مضائقہ نہیں صرف خلاف اولی ہے، بلکہ بعض ائمہ نے اس کے مستحب ہونے کی تصریح فرمائی۔ فقیر کے نزدیک ظاہرا یہ استحباب تنہا پڑھنے والے کے حق میں ہے امام کے لئے ضرور مکروہ ہے بلکہ مقتدیوں پر گراں گذرے تو حرام۔( جلد 8/ صفحہ 192)۔بہار شریعت جلد اول میں ہے : اگر ( فرض نماز) دو سے زیادہ رکعتیں پڑھنی ہیں تو اٹھ کھڑا ہو اور اسی طرح پڑھے مگر فرضوں کی ان رکعتوں میں الحمد کے ساتھ سورت ملانا ضرور نہیں۔( حصہ سوم/ صفحہ 509)۔

وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_


کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ

حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔

21/ رجب المرجب 1445ھ

2/ فروری 2024ء  

 رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_  

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad