تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

تین طلاق کے بعد بیوی کے ساتھ رہنا کیسا؟ ایسے شخص کا اذان و تکبیر دینا کیسا؟ ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ حلالہ کی صورت کیا ہے؟

0


تین طلاق کے بعد بیوی کے ساتھ رہنا کیسا؟  ایسے شخص کا اذان و تکبیر دینا کیسا؟


رقم الفتوی : 591

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ


 کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ

 ایک شخص ہے جس نے اپنی بیوی کو تین بار طلاق دے چکا ہے پھر بھی اپنی بیوی کے ساتھ رہتا ہے تو اس آدمی کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے اس آدمی کا اذان دینا کیسا ہے اس آدمی کا تکبیر دینا کیسا ہے تفصیل و دلیل کے ساتھ جواب دیں مہربانی ہوگی


سائل. محمد سلمان رضا۔ بنگال

.....................................................

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

الجواب بعونہ تعالیٰ : اگر زید واقعی ہی اپنی بیوی کو تین بار طلاق دے چکا ہے تو تین طلاق واقع ہوگیں اب بغیر حلالہ کئے حلال نہیں۔قرآن مجید میں ہے: فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهٗؕ۔ترجمہ: پھر اگر تیسری طلاق دی اس کے بعد وہ اس سے حلال نہ ہو گی جب تک دوسرے شوہر سے نکاح نہ کرے (پارہ 2 سورہ بقرہ آیت230)۔ فتاویٰ ہندیہ میں ہے: ان کان الطلاق ثلاثا لم تحل له حتی تنکح زوجا غیرہ نکاحا صحیحا و یدخل بها ثم یطلقها أو یموت عنها ۔یعنی اگر دوسرے شوہر نے بغیر ہمبستری کے طلاق دی یا مرگیا تو حلالہ صحیح نہ ہوگا ( ج 1 کتاب الطلاق صفحہ 473)۔زید پر لازم ہے کہ وہ فوراً جدا ہو جائے اور اپنے گناہ سے توبہ کرے اگر دوبارہ رکھنا چاہئے تو حلالہ کرے۔بعد حلالہ زید کا ساتھ میں رہنا جائز ہے۔حلالہ کی صورت یہ ہے کہ عدت گزرنے کے بعد وہ عورت کسی سنی صحیح العقیدہ سے صحیح نکاح کرے دوسرا شوہر اس کے ساتھ کم سے کم ایک بار ہمبستری کرے پھر وہ مرجائے یا طلاق دیدے تو دوبارہ عدت گزارنے کے بعد وہ زید سے نکاح کر سکتی ہے اگر شوہر ثانی نے بغیر ہمبستری طلاق دیدی یا مرگیا تو حلالہ صحیح نہیں ہوگا كما في حديث العسيلة۔

لہذا زید فاسق معلن ہے اور فاسق معلن کا اذان و تکبیر دینا جائز نہیں اور فاسق معلن کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی وگناہ ہے اور اگر پڑھ لی،تو اعادہ واجب ہے۔اس لئے کہ جو نماز کراہت کے ساتھ ادا کی جائے،اس کے اعادہ کے واجب ہونے کے بارے میں در مختار مع رد المحتار میں ہے : ’’کل صلاۃ ادیت مع کراھة التحریم تجب اعادتھا‘‘ترجمہ : ہر وہ نماز جو کراہت تحریمی کے ساتھ ادا کی گئی،اس کو لوٹانا واجب ہے۔(ج2/کتاب الصلاۃ، صفحہ 182)فتاویٰ رضویہ میں ہے : فإن تقديم الفاسق إثم والصلاة خلفه مكروهة تحريما۔ترجمہ: بے شک فاسق کو آگے بڑھانا گناہ ہے اور اس کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے(جلد سوم صفحہ 252)۔

وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_


کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ

حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔

21/ رجب المرجب 1445ھ

2/ فروری 2024ء  

 رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_  

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad