تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

قرآن کریم کی تلاوت کرنا کیا ہے؟ روزانہ تلاوت نہ کرنے سے کیا گناہگار ہوگا؟ قرآن کریم کو یاد کر کے بھلا دینا کیا ہے؟ جو قرآن مجید کو پڑھنا نہ سیکھے اس پر کیا حکم ہے؟

0


قرآن کریم کی تلاوت کرنا کیا ہے؟  روزانہ تلاوت نہ کرنے سے کیا گناہگار ہوگا؟

رقم الفتوی : 594



محب گرامی حضرت مولانا مفتی مظہر حسین سعدی صاحب

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے متعلق کہ قرآن کریم کی تلاوت کرنا فرض، واجب، سنت یا مستحب کیا ہے؟ جو روزانہ تلاوت نہ کرے وہ گناہگار ہوگا یا نہیں۔ نیز جو کسی سورت کو یاد کرکے بھلا دے یا قرآن مجید پڑھنا نہ سیکھے اس کا کیا حکم ہے؟ قرآن و احادیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں اور اجر عظیم کے مستحق بنیں۔ 

سائل : محمد افتخار حسین رضوی ٹھاکر گنج کشن گنج بہار

............................................................

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

الجواب بعونہ تعالیٰ : قرآن کریم کی تلاوت کرنا روزانہ مستحب ہے اگر کوئی تلاوت نہ کرے تو گناہگار نہیں ہوگا مگر ثواب سے محروم رہے گا صحیح بخاری میں ہے : حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے مروی،کہ رسول ﷲ صلَّی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلَّم نے فرمایا: ’’جو مومن قرآن پڑھتا ہے، اس کی مثال ترنج کی سی ہے کہ خوشبو بھی اچھی ہے اورمزہ بھی اچھا ہے اور جو مومن قرآن نہیں پڑھتا،وہ کھجور کی مثل ہے کہ اس میں خوشبو نہیں مگر مزہ شیریں ہے۔اور جو منافق قرآن نہیں پڑھتا،وہ اندرائن کی مثل ہے کہ اس میں خوشبو بھی نہیں ہے اور مزہ کڑوا ہے اور جو منافق قرآن پڑھتا ہے، وہ پھول کی مثل ہے کہ اس میں خوشبو ہے مگر مزہ کڑوا۔(کتاب الأطعمۃ، باب ذکر الطعام، صفحہ 535)۔ترمذی شریف میں ہے : حضرت عبد ﷲ بن مسعود رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول ﷲ صلَّی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلَّم نے فرمایا: ’’جو شخص کلام ﷲ کا ایک حرف پڑھے گا، اُس کو ایک نیکی ملے گی جو دس کے برابر ہوگی۔میں یہ نہیں کہتا الٓمّٓ ایک حرف ہے، بلکہ الف ایک حرف ہے، لام دوسرا حرف ہے، میم تیسرا حرف۔(کتاب فضائل القرآن، باب ماجاء في من قرأ حرفا من القرآن ۔۔۔ إلخ، صفحہ 617)۔

(ا)

قرآن مجید کو یاد کر کے بھلا دینا گناہ ہے،بہار شریعت جلد اول میں ہے : قرآن پڑھ کر بھلا دینا گناہ ہے،حضور اقدس صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میری امت کے ثواب مجھ پر پیش کیے گئے، یہاں تک کہ تنکا جو مسجد سے آدمی نکال دیتا ہے, اور میری امت کے گناہ مجھ پر پیش ہوئے، تو اس سے بڑھ کر کوئی گناہ نہیں دیکھا کہ آدمی کو سورت یا آیت دی گئی اور اس نے بھلا دیا۔( أبواب فضائل القرآن، صفحہ 420)۔دوسری روایت میں ہے کہ جو قرآن پڑھ کر بھول جائے قیامت کے دن کوڑھی ہو کر آئے گا۔(کتاب الوتر، باب التشدید فیمن حفظ القرآن ثم نسیہ، صفحہ 107)۔اور قرآن مجید میں ہے : وَ مَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِیْ ۔۔۔۔الآیۃ ’’اندھا ہو کر اُٹھے گا۔‘‘جو میرے ذکر یعنی قرآن سے منہ پھیرے گا سو اس کے لئے تنگ عیش ہے اور ہم اسے قیامت کے دن اندھا اٹھائیں گے، کہے گا، اے میرے رب! تو نے مجھے اندھا کیوں اٹھایا میں تو تھا انکھیارا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا، یوہیں آئی تھیں تیرے پاس ہماری آیتیں سو تُو نے انہیں بُھلا دیا اور ایسے ہی آج تُو بُھلا دیا جائے گا کہ کوئی تیری خبر نہ لے گا۔‘‘ مجدد اعظم اعلیٰ حضرت امام احمد رضا علیہ رحمۃ الرحمٰن ’’فتاویٰ رضویہ ‘‘ میں فرماتے ہیں : ’’وہ قرآن مجید بھول جائے اور ان وعیدوں کا مستحق ہو، جو اس باب میں وارد ہوئیں، پھر آپ نے مذکورہ آیہ و ترجمہ لکھا۔(الفتاوی الرضویۃ،جلد 23/صفحہ 446 )۔( حصہ سوم/قرآن مجید پڑھنے کا بیان،صفحہ 557/556)۔

(ب)

قرآن مجید کا ایک آیت کا حفظ کرنا ہر مسلمان مکلّف پر فرض عین ہے اور پورے قرآن مجید کا حفظ کرنا فرض کفایہ اور سورۂ فاتحہ اور ایک دوسری چھوٹی سورت یا اس کے مثل، مثلاً تین چھوٹی آیتیں یا ایک بڑی آیت کا حفظ، واجب عین ہے۔جو پڑھنے نہ سیکھے وہ گناہگار ہے۔ سنن ابن ماجہ میں ہے : طلب العلم فريضة على كل مسلم و مسلمة۔ ترجمہ: علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرضِ عین ہے۔(کتاب السنۃ،باب فضل العلماء إلخ، صفحہ 146)در مختار میں ہے : (و حفظها فرض عين متعين) على كل مكلف ( و حفظ جميع القرآن فرض كفاية) و سنة عين افضل من التنفل و تعلم الفقه أفضل منهما ( و حفظ فاتحة الكتاب و سورة واجب على كل مسلم)۔(ج2/ کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، صفحہ 258/257)۔بہار شریعت جلد اول میں ہے :ایک آیت کا حفظ کرنا ہر مسلمان مکلّف پر فرض عین ہے اور پورے قرآن مجید کا حفظ کرنا فرض کفایہ اور سورۂ فاتحہ اور ایک دوسری چھوٹی سورت یا اس کے مثل، مثلاً تین چھوٹی آیتیں یا ایک بڑی آیت کا حفظ، واجب عین ہے۔( حصہ سوم، صفحہ 459)۔

وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_

کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ

حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔

25/ رجب المرجب 1445ھ

6/ فروری 2024ء  

 رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_  

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad