تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

آئسہ عورت کے ساتھ حلالہ کرنا ضروری ہے یا نہیں؟ جو طلاق کے بعد بھی ساتھ میں رہے اس کے ساتھ اسلامی تعلقات رکھنا چاہئے یا نہیں؟ جھگڑا کے دوران طلاق دینے سے طلاق واقع ہو جائے گی یا نہیں؟

0


آئسہ عورت کے ساتھ حلالہ کرنا ضروری ہے یا نہیں؟

رقم الفتوی : 594


السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام مسئلہ ذیل میں کہ زید جس کی عمر 70 سال ہے ہندہ جس کی عمر 65 سال ہے زید نے اپنی بیوی ہندہ کو دوران جھگڑا ایک دو تین طلاق دیدیا پھر کچھ دنوں تک دونوں علٰحیدہ رہے پھر کسی وہابی مولوی کے کہنے پر دونوں کا نکاح پڑھا دیاگیا جب سماج والوں نے دیکھا یہ دونوں میاں بیوی کی طرح رہ رہے ہیں تو سماج والوں نے ان سے قطع تعلق کر لیا یہاں تک کے مسجد سے باہر کر دیا اب زید کا دماغی توازن ہر وقت ٹھیک نہیں رہتا وہ جماعت کے لوگوں کے پاس آکر رو دھوکر گذارش کرنے لگا ہے میرا یہ معاملہ کسی طرح شرعی اعتبار 

سے حل کیا جائے۔بینوا وتوجروا

سائل : محمد شاہد عالم اشرفی گیوڑالوٹی بہار

..................................................

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

الجواب بعونہ تعالیٰ :اگر زید واقعی ہی اپنی بیوی کو شرعی طور پر تین بار طلاق دے دی ہے خواہ جھگڑا کے سبب ہوں یا بلاوجہ یا فون پر دی جائیں یا زبانی یا تحریری بہر صورت تین طلاق واقع ہوگیں اب عورت مرد پر حرام ہو جاتی ہے اور بغیر حلالہ کے رجوع کی کوئی صورت نہیں ہوتی۔قرآن مجید میں ہے: فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهٗؕ۔ترجمہ: پھر اگر تیسری طلاق دی اس کے بعد وہ اس سے حلال نہ ہو گی جب تک دوسرے شوہر سے نکاح نہ کرے (پارہ 2 سورہ بقرہ آیت230)۔ فتاویٰ ہندیہ میں ہے: ان کان الطلاق ثلاثا لم تحل له حتی تنکح زوجا غیرہ نکاحا صحیحا و یدخل بها ثم یطلقها أو یموت عنها ۔یعنی اگر دوسرے شوہر نے بغیر ہمبستری کے طلاق دی یا مرگیا تو حلالہ صحیح نہ ہوگا ( ج 1 کتاب الطلاق صفحہ 473)۔

لہذا زید پر لازم ہے کہ وہ فوراً جدا ہو جائے اور اپنے گناہ سے توبہ کرے اگر دوبارہ رکھنا چاہئے تو حلالہ کرے۔بعد حلالہ زید کا ساتھ میں رہنا جائز ہے۔اگر زید نہ مانے تو گھر والوں،رشتہ داروں اور اہل محلہ پر لازم ہے کہ وہ حسبِ استطاعت ان کو اکٹھے رہنے سے روکیں۔اگر یہ دونوں باز نہ آئیں۔تو ان سے قطع تعلقی کرنا چاہیے۔وقار الفتاوٰی میں ہے : جس شخص نے مطلقہ ثلاثہ کو اپنے پاس رکھا ہے،وہ حرام کاری میں مبتلا ہوا۔اہل محلہ اور رشتہ داروں کو اس سے ملنا جلنا ناجائز و گناہ تھا،جب تک وہ اس عورت کو اپنے سے جدا نہ کردے اور بالاعلان توبہ نہ کرے۔(جلد3/صفحہ165)۔حلالہ کی صورت یہ ہے کہ عدت گزرنے کے بعد وہ عورت کسی سنی صحیح العقیدہ سے صحیح نکاح کرے دوسرا شوہر اس کے ساتھ کم سے کم ایک بار ہمبستری کرے پھر وہ مرجائے یا طلاق دیدے تو دوبارہ عدت گزارنے کے بعد وہ زید سے نکاح کر سکتی ہے اگر شوہر ثانی نے بغیر ہمبستری طلاق دیدی یا مرگیا تو حلالہ صحیح نہیں ہوگا كما في حديث العسيلة۔جس عورت کا حیض آنا بند ہو گیا ہو چاہے کسی وجہ سے نہیں آتا اس کی عدت تین مہینہ ہے۔قرآن عظیم میں ہے : وَ اللئ یَىٕسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآىٕكُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلٰثَةُ اَشْهُرٍۙ- وَّ اﻼ لَمْ یَحِضْنَؕ۔ ترجمہ : اور تمھاری عورتوں میں جو حیض سے نا امید ہوگئیں اگر تم کو کچھ شک ہو تو اُن کی عدت تین مہینے ہے اور اُن کی بھی جنھیں ابھی حیض نہیں آیا ہے۔(پارہ 28/ سورہ طلاق، آیت 4)۔فتاوی قاضی خان میں ہے : لو کانت المطلقۃ صغیرۃ او آیسۃ وھی حرۃ فعدتھا ثلثۃ اشھر۔(ج2/ کتاب الطلاق، باب العدۃ، صفحہ 123)۔

وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_

کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ

حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔

25/ رجب المرجب 1445ھ

6/ فروری 2024ء  

 رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_  

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad