رقم الفتوی : 598
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ایک شخص کے دو لڑکے اور چھ لڑکیاں ہیں ایک لاکھ روپیہ وراثت کا ہے اس کو کس طرح تقسیم کریں گے کس کو کتنا ملے گا جواب عنایت فرما کر شکریہ کا موقع دیں جزاک اللہ تعالی فی الدارین ،،،،
سائل، محمداشرف رضا لونی غازی آباد اتر پردیش
.................................................
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ : مرحوم کے مال متروکہ سے تجہیز و تکفین کے بعد اور قرض ادا کرنے کے بعد اور اگر میت نے کوئی وصیت کی ہو تو ثلث مال سے وصیت مکمل کرنے کے بعد پھر مابقیہ مال منقولہ یا غیر منقولہ جائداد کو سارے وارثوں میں تقسیم کردیں۔ تو مرحوم کی پوری جائداد کو دس (10) حصے کئے جائیں گے دو بیٹے کو چار (4) حصے، یعنی ہر ایک بیٹا کو دو دو کر کے حصے ملیں گے۔چھ بیٹی کو چھ (6) حصے ملیں گے۔یعنی ہر ایک بیٹی کو ایک ایک کر کے حصے ملیں گے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : يُوْصِيْكُمُ اللّـٰهُ فِىٓ اَوْلَادِكُمْ لِلـذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَيَيْنِ"ترجمہ: بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ۔(پارہ4 سورہ نساء آیت11)۔
لہذا ایک لاکھ ترکہ میں دو بیٹے کو 40,000/ ہزار ملے گا۔یعنی ہر ایک بیٹا کو 20,000/ ہزار ملے گا اور چھ بیٹیاں کو 60,000/ ہزار ملے گا یعنی ہر ایک بیٹی کو 10,000/ کر کے ملے گا۔
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔
2/ شعبان المعظم 1445ھ
12/ فروری 2024ء
رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_

