تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

مہر زیادہ سے زیادہ کتنا باندھ سکتے ہیں؟ مہر ادا کرنا ضروری ہے یا نہیں؟ مہر کب ادا کرنا چاہئے؟

0
مہر زیادہ سے زیادہ کتنا باندھ سکتے ہیں؟


رقم الفتوی : 598


السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں۔آج کل نکاح کا مہر لاکھوں میں رکھا جاتا ہے مگر نکاح کے وقت ادا نہیں کیا جاتا بلکہ اگر ہو تو طلاق کے وقت ادا کیا جاتا ہے۔

ایسے مہر کی کیا شرعی حیثیت ہے ۔

اور مہر کا کوئی آسان مسئلہ بتادیں کیسے رکھیں کیسے ادا کریں۔


سائل : عبد اللہ جموں کشمیر

.............................................

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

الجواب بعونہ تعالیٰ : نکاح کے لئے مہر کم سے کم دس درہم ہونا واجب ہے اور لڑکا لڑکی کی رضا مندی سے زیادتی کی کوئی حد متعین نہیں۔جتنا زیادہ چاہیں باہمی رضامندی سے مقرر کرسکتے ہیں ہاں بہتر یہ ہے کہ شوہر استطاعت کے مطابق اُتنا ہی مہر مقرر کرے کہ جسے باآسانی ادا کر سکے،لیکن استطاعت سے زیادہ مقرر کرنا بھی ناجائز و گناہ نہیں اور جتنا زیادہ مہر مقرر کریں گے وہ لازم ہوجائے گا۔درمختار میں ہے : (و) یجب (الأکثر منها إن سمی) الأکثر۔یعنی اور اگر (دس درہم سے )زیادہ مہر مقرر کیا تو یہ زیادہ واجب ہوگا۔(ج4/ کتاب النکاح، باب المہر،صفحہ 233)۔رد المحتار میں ہے : (و یجب الأکثر ) أی بالغا ما بلغ، فالتقدیر بالعشرۃ لمنع النقصان۔یعنی وہ زیادتی جس مقدار کو پہنچے (لازم ہوجائے گی )لہٰذا دس درہم کی مقدار کم کی ممانعت کیلئے ہے (کہ مہر اس سے کم نہ ہو )۔(ج4/ کتاب النکاح، باب المہر،صفحہ 233)۔فتاویٰ رضویہ میں ہے : مہر شرعی کی کوئی تعداد مقرر نہیں، صرف کمی کی طرف حد معین ہے کہ دس درہم سے کم نہ ہو اور زیادتی کی کوئی حد نہیں، جس قدر باندھا جائے گا لازم آئے گا۔(جلد 12/صفحہ 165) اسی میں ہے : حیثیت سے زائد مہر نامناسب ہے، کوئی گناہ نہیں جس پر مواخذہ ہو ۔(جلد 12/ صفحہ 177) فتاویٰ امجدیہ میں ہے : کم سے کم مہر کی مقدار دس درہم شرعی ہے اس سے کم نہیں ہوسکتا،اور زیادہ کے لئے شریعت نے کوئی حد نہیں رکھی جو باندھا جائے گا لازم ہوگا اور بہتر یہ ہے کہ شوہر اپنی حیثیت ملحوظ رکھے کہ یہ اس کے ذمہ دین ہے،یہ نہ سمجھے کہ کون دیتا ہے کون لیتا ہے؟ اگر یہاں نہ دیا تو آخرت کا مطالبہ سر پر رہا۔(جلد 2/ صفحہ 144)۔

(ا) 

شوہر پر پورا مہرِ مقررہ ادا کرنا لازم ہے اور مہر باندھنے کی تین صورتیں ہیں اول مہر معجل کہ خلوت سے پہلے مہر دینا قرار پایا ہے۔اور دوم مہر مؤجل جس کے لیے کوئی میعاد مقرر ہو۔ اور سوم مہر مطلق جس میں نہ وہ ہو، نہ یہ، یعنی نہ خلوت سے پہلے دینا قرار پایا ہو،نہ ہی اس کے لئے کوئی مدت مقرر ہو۔بہار شریعت جلد دوم میں ہے : مہر تین قسم ہے : (1) معجل کہ خلوت سے پہلے مہر دینا قرار پایا ہے۔اور (2) مؤجل جس کے لیے کوئی میعاد مقرر ہو۔ اور(3) مطلق جس میں نہ وہ ہو، نہ یہ۔( حصہ 7/ صفحہ 66)۔

لہذا عموماً مہر مطلق زیادہ تر باندھتے ہیں اگر یہی ہے تو جب چاہئے ادا کر سکتا۔لیکن ادا کرنا لازم ہے۔ قرآن مجید میں ہے : وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا عَرَّضْتُمْ بِهٖ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَآءِ اَوْ اَكْنَنْتُمْ فِیْۤ اَنْفُسِكُمْؕ-عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ سَتَذْكُرُوْنَهُنَّ وَ لٰكِنْ لَّا تُوَاعِدُوْهُنَّ سِرًّا اِلَّاۤ اَنْ تَقُوْلُوْا قَوْلًا مَّعْرُوْفًا۬ؕ-وَ لَا تَعْزِمُوْا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتّٰى یَبْلُغَ الْكِتٰبُ اَجَلَهٗؕ-وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوْهُۚ-وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ۠ ۔ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ مَا لَمْ تَمَسُّوْهُنَّ اَوْ تَفْرِضُوْا لَهُنَّ فَرِیْضَةً ۚۖ-وَّ مَتِّعُوْهُنَّۚ-عَلَى الْمُوْسِعِ قَدَرُهٗ وَ عَلَى الْمُقْتِرِ قَدَرُهٗۚ-مَتَاعًۢا بِالْمَعْرُوْفِۚ-حَقًّا عَلَى الْمُحْسِنِیْنَ۔وَ اِنْ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ وَ قَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِیْضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ اِلَّاۤ اَنْ یَّعْفُوْنَ اَوْ یَعْفُوَا الَّذِیْ بِیَدِهٖ عُقْدَةُ النِّكَاحِؕ-وَ اَنْ تَعْفُوْۤا اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰىؕ-وَ لَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَیْنَكُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ۔ ترجمہ : تم پر کچھ مطالبہ نہیں اگر تم عورتوں کو طلاق دو، جب تک تم نے ان کو ہاتھ نہ لگایا ہو یا مہر نہ مقرر کیا ہو اور ان کو کچھ برتنے کو دو، مالدار پر اس کے لائق اور تنگ دست پر اس کے لائق حسبِ دستور برتنے کی چیز واجب ہے، بھلائی والوں پر اورا گر تم نے عورتوں کو ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دیدی اور ان کے لیے مہر مقرر کر چکے تھے تو جتنا مقرر کیا اس کا نصف واجب ہے مگر یہ کہ عورتیں معاف کر دیں یا وہ زیادہ دے جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے۔ اور اے مردو تمھارا زیادہ دینا پرہیزگاری سے زیادہ نزدیک ہے اور آپس میں احسان کرنا نہ بھولو، بے شک اللہ (عزوجل) تمھارے کام دیکھ رہا ہے۔( سورہ بقرہ، آیت 237/236)۔

وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_

کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ

حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔

3/ شعبان المعظم 1445ھ

13/ فروری 2024ء  

 رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_   

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad