تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

جماعت چھوڑ کے گھر میں نماز پڑھنے سے گناہگار ہوگا یا نہیں؟ ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟

0



جماعت چھوڑ کے گھر میں نماز پڑھنے سے گناہگار ہوگا یا نہیں؟


رقم الفتوی : 599



السلامُ علیکم

کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسلے میں کی جیسا کی بہار شریعت میں لکھا ہر مسلمان عاقل بالغ مرد پر جیسے مسجد تک جانے میں مشقّت نہ ہو جماعت واجب ہے بلا عذر شرعی ایک بار بھی چھوڑنے والا فاسق ہے تو سوال عرض ہےاگر کوئی حافظ فجر کی جماعت کا اہتمام نہیں کرتا ہے گھر پر ہی نماز پڑھ لیتا ہے تو کیا وہ فاسق ہوگا اور کیا اسکے پیچھے نماز ہوگی؟

سائل : محمد ارشد عطاری جھارکھنڈ

......................................

وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ 

الجواب بعونہ تعالیٰ : ہر عاقل،بالغ مسلمان مرد پر،مسجد میں جاکر با جماعت نماز ادا کرنا واجب ہے۔ 

صورت مسئولہ میں اگر وہ امام ایک بار بھی جماعت قصداً بلاعذر شرعی ترک کرتا ہے تو مرتکب کبیرہ کا مستحق ہے اور کئی بار ترک کرے تو فاسق مردود الشہادہ ہے اسے امام بنانا گناہ اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے۔فتاویٰ رضویہ میں اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں : پانچوں وقت کی نماز مسجد میں جماعت کے ساتھ واجب ہے ایک وقت کا بھی بلاعذر ترک گناہ ہے۔( جلد 7/ صفحہ 195)۔اسی میں ہے : ہاں جو ایک وقت کی نماز بھی قصداً بلاعذر شرعی دیدہ ودانستہ قضا کرے فاسق ومرتکب کبیرہ و مستحق جہنم ہے۔( جلد 5 صفحہ 110)۔

وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_

کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ

حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔

28/ شعبان المعظم 1445ھ

9/ مارچ 2024ء   

 رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_   

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad