رقم الفتوی : 600
حضرت میرا سوال ہے کہ مسجد میں جمعہ کی نماز کے لیے اتنا بھیڑ ہو گئی کہ جگہ باقی نہ رہا تو ایسے صورت میں نماز مسجد کے باہر پڑ سکتے ہیں یہ نہیں کیا حکم ہیں جواب عنایت فرمائیں؟*
کچھ لوگ ایسا کرتے ہیں جمعہ کے لیے مسجد میں جگہ باقی رہتی ہے پھر بھی لوگ نماز مسجد کے باہر پڑھتے ہیں کیا اُنکی نماز ہو جائیگی اگر ہو جائیگی تو کس صورت میں؟
سائل : شیزان رضا قادری رضوی کارنجوی
...........................................
الجواب بعونہ تعالیٰ : باہر نماز پڑھ سکتے ہیں جبکہ امام کے انتقالات میں مشتبہ نہ ہوں جس سے امام یا مکبر کی آواز سنائی دیتی ہو، یا امام و مقتدی کے درمیان اتنی صف خالی نہ ہو کہ جس میں بیل گاڑی جاسکے، یا کشتی چل سکے تو ایسی صورت میں جو امام کی اقتداء کریں گے ان کی اقتداء درست اور نماز بلا کراہت جائز و صحیح ہوگی ورنہ نہیں۔درمختار مع رد المحتار میں ہے: إذا كان لا يشتبه عليه حال الامام. والحائل لا يمنع الاقتداء أن لم يشتبه حال امامه بسماع أو رؤية ولو من باب مشبك يمنع الوصول في الأصح.
ترجمہ: جب اس پر امام کی حالت مشتبہ نہ ہو، اور حائل چیز اقتداء کے مانع نہیں اگر امام کی حالت مشتبہ نہ ہو سننے یا دیکھنے کے ساتھ اگر چہ سراخ والے دروازے سے ہو جو امام تک پہونچنے مانع ہو اصح قول میں۔(ج2/ کتاب الصلاۃ، باب الامامۃ، صفحہ 333)۔
(ا)
مسجد میں جگہ رہتے ہوئے باہر نماز پڑھنا گناہ و مکروہ تحریمی ہے یعنی اسے مکروہ تحریمی کا گناہ ملے گا مگر مقتدی کی نماز ہو جائے گی۔فتاویٰ رضویہ میں ہے : کسی صف میں فرجہ رکھنا مکروہ تحریمی ہے، جب تک اگلی صف پوری نہ کرلیں صف دیگر ہرگز نہ باندھیں۔حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تکمیل صف کا نہایت اہتمام فرماتے اور اس میں کسی جگہ فرجہ چھوڑنے کو سخت ناپسند فرماتے۔صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو ارشاد ہوتا : اقیموا صفوفکم وتراصوا فانی ارٰکم من وراء ظھری۔یعنی اپنی صفیں سیدھی کرو اور ایک دوسرے سے خوب مل کر کھڑے ہو کہ بیشک میں تمہیں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے دیکھتا ہوں۔حدیث میں اس تاکید شدید سے ارشاد فرمایا : اقیموا الصفوف فانما تصفون بصفوف الملٰئکة وحاذوا بین المناکب وسدو الخلل ولینوا فی ایدی اخوانکم ولاتذروا فرجات للشیاطین ومن وصل صفا وصله اللّٰہ ومن قطع صفا قطعها للّٰہ۔یعنی صفیں درست کرو کہ تمہیں تو ملائکہ کی سی صف بندی چاہئے اور اپنے شانے سب ایک سیدھ میں رکھو اور صف کے رخنے بند کرو اور مسلمانوں کے ہاتھوں میں نرم ہو جاؤ اور صف میں شیطان کے لئے کھڑکیاں نہ چھوڑو اور جو صف کو وصل کرے اللہ اسے وصل کرے اور جو صف کو قطع کرے اللہ اسے قطع کرے۔(ماخوذ جلد 7/ صفحہ 50/42)۔
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔
6/ شعبان المعظم 1445ھ
16/ فروری 2024ء
رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_

