رقم الفتوی : 601
السلام علیکم
کیا فرما تےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید 10بیٹے اور 3بیٹی،(دوبیوی سے) چھوڑ کر انتقال کر گیا ، اور بڑا بیٹا زید کی حیات میں فوت ھو چکا ہے
اب دریافت امر یہ ہے کہ زید کی 10 بیگھ زمین وارثوں میں کس طرح تقسیم کیا جائے گا نیز مرحوم کا بڑا بیٹا جو مرحوم کی حیات میں فوت ھو چکا ہے انکی اولاد کو حصہ ملے گا یانہیں،
قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہو گی
المستفتی : کریم الدین آسام
...............................................
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ : جب زید کی زندگی ہی میں بڑا بیٹا انتقال کر گئے تھے تو زید کی جائداد سے بڑا بیٹا کو کوئی حصہ نہیں ملے گا اور ان کی اولاد کو بھی کوئی حصہ نہیں ملے گا کیونکہ بیٹا کی موجودگی میں پوتے اور پوتی کا کوئی حق نہیں ہوتا ہے۔مگر ان کے فیملی کے ساتھ حسن سلوک کرتے رہیں۔
بر تقدیر صدق سوال "بعد تقديم ما تقدم على الإرث وانحصار ورثة في المذكورين" زید کی جائداد منقولہ غیر منقولہ کو ایکس (21) حصے کئے جائیں گے نو بیٹے کو اٹھارہ (18) حصے یعنی ہر ایک بیٹا کو دو دو کر کے۔اور تین بیٹی کو تین (3) حصے یعنی ہر ایک بیٹی کو ایک ایک حصہ کر کے ملے گا جب کہ ان کے علاوہ اور کوئی وارث نہ ہو۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : يُوْصِيْكُمُ اللّـٰهُ فِىٓ اَوْلَادِكُمْ لِلـذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَيَيْنِ"ترجمہ: بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ۔(پارہ4/ سورہ نساء آیت11)درمختار میں ہے : يجوز العصبة بنفسه ما أبقت الفرائض وعند الانفراد يجوز جميع المال ۔ اسی میں ہے : يقدم الاقرب فالاقرب۔ ( ج 10/ کتاب الفرائض صفحہ 517/518 )۔فتاویٰ ہندیہ میں ہے :.إذا انفرد أخذ جميع المال. ( الباب الثالث فی العصبات، صفحہ 451)اسی میں ہے: الاقرب يحجوب الا بعد كالابن يحجب اولاد الابن ۔( ج6/ کتاب الفرائض، الباب الرابع فی الحجب، صفحہ 452)۔
بلفظ دیگر 10 بیگھ زمین میں نو بیٹے کو آٹھ بیگھ گیارہ کٹھا 43 پوینٹ ملے گا یعنی ہر ایک بیٹا کو 19 کٹھا 5 پوینٹ کر کے ملے گا۔اور تین بیٹیاں کو ایک بیگھ آٹھ کٹھا 57 پوینٹ ملے گا یعنی ہر ایک بیٹی کو نو کٹھا 52 پوینٹ کر کے ملے گا۔
( نوٹ)
ہمارے علاقے میں بیس کٹھا کا ایک بیگھ ہوتا ہے اس اعتبار سے لکھا گیا ہے۔ آپ اپنے علاقے کے اعتبار سے دیکھ لیں۔
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔
29/ ذی الحجہ 1445ھ
06/ جولائی 2024ء
رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_

