رقم الفتوی : 602
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
حضرت میرا اپ لوگوں سے سوال ہے
کہ جماعت لائن کو اچھی طرح سے پوری نہ کریں بیچ میں چھوڑ چھوڑ کر نماز پڑھے اس کا کیا حکم ہے
سائل : محمد نورشید رضا قادری بنگال مالدا چنچل
....................................................
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ : صف کے بیچ میں جگہ چھوڑ چھوڑ کر نماز پڑھنا گناہ و مکروہ تحریمی ہے یعنی اسے مکروہ تحریمی کا گناہ ملے گا مگر مقتدی کی نماز ہو جائے گی۔فتاویٰ رضویہ میں ہے : کسی صف میں فرجہ رکھنا مکروہ تحریمی ہے، جب تک اگلی صف پوری نہ کرلیں صف دیگر ہرگز نہ باندھیں۔حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تکمیل صف کا نہایت اہتمام فرماتے اور اس میں کسی جگہ فرجہ چھوڑنے کو سخت ناپسند فرماتے۔صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو ارشاد ہوتا : اقیموا صفوفکم وتراصوا فانی ارٰکم من وراء ظھری۔یعنی اپنی صفیں سیدھی کرو اور ایک دوسرے سے خوب مل کر کھڑے ہو کہ بیشک میں تمہیں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے دیکھتا ہوں۔حدیث میں اس تاکید شدید سے ارشاد فرمایا : اقیموا الصفوف فانما تصفون بصفوف الملٰئکة وحاذوا بین المناکب وسدو الخلل ولینوا فی ایدی اخوانکم ولاتذروا فرجات للشیاطین ومن وصل صفا وصله اللّٰہ ومن قطع صفا قطعها للّٰہ۔یعنی صفیں درست کرو کہ تمہیں تو ملائکہ کی سی صف بندی چاہئے اور اپنے شانے سب ایک سیدھ میں رکھو اور صف کے رخنے بند کرو اور مسلمانوں کے ہاتھوں میں نرم ہو جاؤ اور صف میں شیطان کے لئے کھڑکیاں نہ چھوڑو اور جو صف کو وصل کرے اللہ اسے وصل کرے اور جو صف کو قطع کرے اللہ اسے قطع کرے۔(ماخوذ جلد 7/ صفحہ 50/42)۔
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔
6/ رمضان المبارک 1445ھ
17/ مارچ 2024ء
رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_

