رقم الفتوی : 603
اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
کیافرماتے ہیں علماۓ دین ومفتیان شرع متین مسٸلہ ذیل کے بارے میں کہ گاٶں میں دوچھوٹی چھوٹی مسجد میں الگ الگ جمعہ قاٸم تھا اب ان لوگوں نے ملکر ایک بڑی جامع مسجد قاٸم کی اب ان سب لوگوں کا کہنا ہیکہ ہم سب ملکر ایک ہی مسجد میں جمعہ کی نماز احتیاط ظہر کے ساتھ پڑھیں گے اور دونوں مسجد میں جمعہ بند کرکے ایک ہی بڑی جامع مسجد میں جمعہ قاٸم کرسکتے ہیں یانہیں جلدازجلد تسلی بخش جواب عنایت فرمایں
سایل : محمد جنید رضا چچواباڑی طیب پور کشن گنج بہار
.......................................................
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ : جہاں جمعہ جائز ہے وہاں الگ الگ جگہ جمعہ قائم کرنا بھی جائز ہے مگر افضل یہ ہے کہ ایک ہی جامع مسجد میں قائم ہو۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ ایک سوال کے جواب میں فتاویٰ رضویہ میں تحریر فرماتے ہیں : قصبہ وشہر جہاں جمعہ جائز ہے وہاں نماز جمعہ متعدد جگہ ہونا بھی جائز ہے اگر چہ افضل حتی الوسع ایک جگہ ہوتا ہے اور اگلی مسجد جامع کو ترک کر دینے کے اگر یہ معنی کہ اُس میں نماز ہی چھوڑ دی جائے،تو قطعاً ناجائز کہ مسجد کا ویران کرنا ہے اور اگر یہ مراد کہ نماز تو وہاں ہوا کرے مگر جمعہ وہاں کے بدلے اب اس مسجد جدید میں ہو،اس میں اگر وہاں کے اہل اسلام کوئی مصلحتِ شرعیہ قابل قبول رکھتے ہوں تو کیا مضائقہ،ورنہ مسجد جامع وہی مسجد قدیم ہے اور اس میں نماز جمعہ کا ثواب زائد۔( جلد 8/ صفحہ 312)۔
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔
6/ رمضان المبارک 1445ھ
17/ مارچ 2024ء
رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_

