تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

نکاح نامہ پر ولدیت کی جگہ مامو کا نام لکھنا کیسا ہے؟

0


نکاح نامہ پر ولدیت کی جگہ مامو کا نام لکھنا کیسا ہے؟



السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام کہ نکاح نامہ پر ولدیت کی جگہ مامو کا نام لکھنا کیسا ہے؟

سائل : بندئہ خدا 

.......................................

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

الجواب بعونہ تعالیٰ :نکاح نامہ پر ولدیت کی جگہ مامو کا نام لکھنا جائز نہیں۔خواہ تحریری صورت میں ہو یا تقریری صورت میں ہر گورمنٹی و دنیاوی کاغذات پر اس کے حقیقی باپ ہی کا نام لکھا جائے گا۔البتہ حقیقی باپ کی بجائے نکاح نامے پر مامو کا نام لکھنے سے شرعاً نکاح منعقد ہو جاتا ہے۔(نوٹ) اتنا لکھ سکتا ہے کہ ولدیت کے آگے زیر پرورش یا زیر سرپرست درج کر کے نام لکھے۔یا ولدیت کے خانہ کو چھوڑ دے۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے : اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَآىٕهِمْ هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِۚ-فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْۤا اٰبَآءَهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ مَوَالِیْكُمْؕ-وَ لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ فِیْمَاۤ اَخْطَاْتُمْ بِهٖۙ-وَ لٰـكِنْ مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوْبُكُمْؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۔ترجمہ:انہیں ان کے حقیقی باپ ہی کا کہہ کر پکارو، یہ اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف کی بات ہے پھر اگر تمہیں ان کے باپ کا علم نہ ہو تو وہ دین میں تمہارے بھائی اور تمہارے دوست ہیں اور تم پر اس میں کچھ گناہ نہیں جو لاعلمی میں غلطی ہوئی لیکن اس میں گناہ ہے جس کا تمہارے دلوں نے ارادہ کیا اور الله بخشنے والا مہربان ہے۔(پارہ 21/ سورہ احزاب، آیت 5)اسی آیت کے تحت تفسیر ‎صراط الجنان میں حضرت مفتی ابو الصالح محمد قاسم القادری مد ظلہ العالی تحریر فرماتے ہیں : {اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَآىٕهِمْ} انہیں ان کے حقیقی باپ ہی کا کہہ کر پکارو۔} اس سے پہلی آیت میں لے پالک بچے کو پالنے والوں کا بیٹا قرار دینے سے منع کیا گیا اور اس آیت میں یہ فرمایا جا رہا ہے کہ تم ان بچوں کو ان کے حقیقی باپ ہی کی طرف منسوب کر کے پکارو، یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ انصاف کی بات ہے،پھر اگر تمہیں ان کے باپ کا علم نہ ہو اور اس وجہ سے تم انہیں ان کے باپوں کی طرف منسوب نہ کر سکو تو وہ تمہارے دینی بھائی اور دوست ہیں اور انسانیت کے ناطے تمہارے چچا زاد ہیں،تو تم انہیں اپنا بھائی یا اے بھائی کہو اور جس کے لے پالک ہیں اس کا بیٹا نہ کہو اور ممانعت کا حکم آنے سے پہلے تم نے جو لا علمی میں لے پالکوں کو ان کے پالنے والوں کا بیٹا کہا اس پر تمہاری گرفت نہ ہو گی البتہ اس صورت میں تم گناہگار ہو گے جب ممانعت کا حکم آ جانے کے بعد تم جان بوجھ کر لے پالک کو اس کے پالنے والے کا بیٹا کہو۔اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ وہ بخشنے والا مہربان ہے، اسی لئے وہ غلطی سے ایسا ہو جانے پر گرفت نہیں فرماتا اور جس نے جان بوجھ کر ایساکیاہو اس کی توبہ قبول فرماتا ہے۔(جلد 7/صفحہ 561)صحیح بخاری میں ہے : عن سعد رضي الله عنه، قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم، يقول : من ادعى إلى غير ابيه، وهو يعلم انه غير ابيه، فالجنة عليه حرام". ترجمہ : حضرت سعد رَضِیَ اللہ تَعَالی عَنْہُ سے روایت ہے،حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: جس شخص کو یہ معلوم ہو کہ اس کا باپ کوئی اور ہے اور اس کے باوجود اپنے آپ کو کسی غیر کی طرف منسوب کرے تو اس پر جنت حرام ہے۔(کتاب الفرائض، باب من ادعی الی غیر ابیہ،صفحہ 346)صحیح مسلم میں ہے : عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ،عَنْ أَبِيهِ، قال النبي صلي الله تعالي عليه وسلم : وَ مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، أَوِ انْتَمَى إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ، وَالْمَلَائِكَةِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا، وَلَا عَدْلًا "۔ یعنی نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : جس شخص نے خود کو اپنے باپ کے غیر کی طرف منسوب کیا یا جس غلام نے اپنے آپ کو اپنے مولیٰ کے غیر کی طرف منسوب کیا اس پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی،فرشتوں  کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہو،قیامت کے دن اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کا کوئی فرض قبول فرمائے گا نہ نفل۔(کتاب الحج، باب فضل المدینۃ ودعاء النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم فیہا بالبرکۃ۔۔۔ الخ، صفحہ480)۔

وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_


کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ

حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔

29/ رجب المرجب 1445ھ

10/ فروری 2024ء 

 رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_   


Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad