رقم الفتوی : 605
السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
مسجد کی چھت سے چاند 🌙 دیکھنا کیسا ہے ؟
برائے کرم جواب عنایت فرمائیں
میں ایک فتویٰ پڑھا تھا مسجد کے چھت پر نماز پڑھنا کیسا ہے اس میں تھا کہ نیچے جگہ خالی ہو تو مسجد کی چھت پر نماز پڑھنا بلکہ چڑھنا مکروہ ہے۔ بس اسی سب سے میں نے سوچا کہ جب نماز کے لیے مسجد کی چھت پر جانا صحیح نہیں تو چاند دیکھنے کے لیے کیونکر جائز ہوگا اس لئے سوال کیا
سائل : محمد شمیم اسمٰعیلی بنارس
..............................................
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ : چاند دیکھنے کے لئے مسجد کی چھت پر چڑھنا مکروہ ہے۔ردالمحتار میں ہے : "ثم رأيت القهستاني نقل عن المفيد كراهة الصعود على سطح المسجد "(ج 2 کتاب الصلاۃ مطلب فی احکام المسجد صفحہ 428)۔فتاویٰ ہندیہ میں ہے: "الصعود على سطح كل مسجد مكروه ولهذا اذا اشتد الحر يكره أن يصلوا بالجماعة فوقه إلا إذا ضاق المسجد فحينئذ لايكره الصعود على سطحه للضرورة " ترجمہ: ہر مسجد کی چھت پر چڑھنا مکروہ ہے،اور اسی وجہ سے شدت گرمی میں مسجد کے اوپر جاکر جماعت سے نماز پڑھنا مکروہ ہے لیکن اگر مسجد تنگ ہو اور مصلے نیچے نہ سمائیں تو ضرورت کی وجہ سے اس کی چھت پر چڑھنا مکروہ نہیں ہے (ج 5/ کتاب الکراہۃ،باب في آداب المسجد صفحہ 322)۔فتاویٰ رضویہ میں اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ والرضوان ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں : اس سقف پر بلا ضرورت نماز کی اجازت نہیں کہ سقف مسجد پر بے ضرورت چڑھنا ممنوع و بے آدبی ہے اور گرمی کا عذر مسموع نہ ہو گا ہاں کثرت جماعت کہ طبقئہ زیریں کے دونوں درجے بھر جائیں اور لوگ باقی رہیں تو سقف پر اقامت نماز کی اجازت ہوگی ( جلد 16/ صفحہ 249)۔بہار شریعت جلد سوم میں ہے : مسجد کی چھت پر چڑھنا مکروہ ہے گرمی کی وجہ سے مسجد کی چھت پر جماعت کرنا مکروہ ہے ہاں اگر مسجد میں تنگی ہو نمازیوں کی کثرت ہو تو چھت پر نماز پڑھ سکتے ہیں جیساکہ ممبئی اور کلکتہ میں مسجد کی تنگی کی وجہ سے چھت پر بھی جماعت ہوتی ہے ( حصہ 16 صفحہ 499)۔
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔
8/ رمضان المبارک 1445ھ
19/ مارچ 2024ء
رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_

