رقم الفتوی 614
جی ایک سوال اور عرض ہیں کہ زید کے بارے میں کچھ لوگ (جن کے اُس سے تعلقات ہے) وہ کہتے ہیں کہ وہ جوا کا حرام کام کرتا ہے اور وہی زید کے بارے میں کچھ لوگ (جن کے اُس سے تعلقات ہے) وہ کہتے ہیں وہ حلال بھی کماتا ہیں
تو اُس کے گھر میں حلال اور حرام دونوں مال آتا ہو وہاں کھانا پینا کیسا ہے۔
مدلل جواب عنایت فرمائے عین نوازش ہوگی۔
سائل: غلام رسول مہاراشٹر
......................................................
الجواب بعونہ تعالیٰ : اگر بعینہ وہی حرام مال سے کھانا پینا تیار کرتا ہو تو کھانا پینا جائز نہیں۔ہاں اگر کھانے پینے والے کو کو معلوم ہو کہ جس سے تیار کیا گیا وہ مال حلال سے تھا تو اس کے کھانے پینے میں کوئی حرج نہیں۔ اور اگر معلوم ہو کہ یہ کھانا جو اس نے تیار کیا اگر چہ عین حرام مال سے نہیں مگر اس میں مال حلال و حرام اس طرح سے ملے ہوئے ہیں کہ تمیز نہیں ہو سکتی یا ہو تو بدقت تمام ہو تو اس صورت میں جس قدر مال وجہ حلال سے تھا اس قدر کھانا پینا تو بلاشبہ جائز ہے۔یہ تمام صورتیں اس وقت تھیں جب اسے اس مال کا حال معلوم ہو، ورنہ تو اس صورت میں فتویٰ جواز ہے کہ اصل حلت ہے، جب تک خاص اس مال کی حرمت نہ ظاہر ہو، کھانے پینے سے منع نہ کریں گے، بالجملہ جسے اپنے دین وتقویٰ کا کامل پاس ہو وہ غلبہ حرام کی صورت میں احتراز ہی کرے جب تک خاص اس شیئ کی حلت کا پتہ نہ چلے ورنہ فتویٰ تو جواز ہی ہے۔فتاویٰ ہندیہ میں ہے : عن الامام الفقیه ابی اللیث اختلف الناس فی اخذ الجائزۃ من السلطان قال بعضھم یجوز مالم یعلم انه یعطیه من حرام، قال محمد رحمه ﷲ تعالى وبه ناخذ مالم نعرف شیئا حراما بعینه وھو قول ابی حنیفة رحمه ﷲ تعالى واصحابه" ترجمہ : فقیہ ابواللیث سے روایت ہے بادشاہ سے انعام لینے کے بارے میں لوگوں کا اختلاف ہے، بعض نے فرمایا کہ لینا جائز ہے جب تک یہ معلوم نہ ہو کہ وہ مالِ حرام سے دیتا ہے، امام محمد نے فرمایا ہم اسی کو لیتے ہیں جب تک کسی معین شیئ کے حرام ہونے کی شناخت نہ ہو، امام ابوحنیفہ اور ان کے ساتھیوں کا یہی قول ہے۔(ج 5/ کتاب الکراھیۃ، الباب الثانی عشر، صفحہ 342)۔
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔
15/ ذی الحجہ 1445ھ
22/ جون 2024ء
رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_

