تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

جسم پر ٹیٹو بنوانا کیسا ہے؟ جسم پر ٹیٹو بنا ہو اس سے وضو ہوگا یا نہیں؟ اور اس سے نماز ہو گی یا نہیں؟

0
جسم پر ٹیٹو بنوانا کیسا ہے؟  جسم پر ٹیٹو بنا ہو اس سے وضو ہوگا یا نہیں؟

رقم الفتوی : 614



السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ  

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ ذیل کے بارےمیں کہ بہت سارے اسلامی بھائیوں نے اپنے جسم کے اعضاء پر ایسے والا ٹیٹو نکالا ہوا ہے نہ یہ دھونے سے جاتا ہے نہ رگڑنے سے اب اس کے بارے میں کیا حکم ہے کیا وضو یہ غسل درست ہوگا یا نہیں اور جو نمازیں پڑھ رہیں ہے انکا کیا حکم ہوگا برائے کرم رہنمائی فرمائیں بہت مہربانی ہوگی

 سائل : سید نزارت بخاری جموں وکشمیر۔

.......................................................

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

الجواب بعونہ تعالیٰ : جسم کے اعضاء پر الگ الگ رنگ کے ٹیٹو بنوانا شرعاً ناجائز و ممنوع ہیں، اس میں اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی چیز کو تبدیل کرنا ہے، اور اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی چیزوں میں خلافِ شرع تبدیلی کرنا ناجائز و حرام اور شیطانی کام ہے۔قرآن مجید میں ہے : وَلَاُضِلَّنَّـهُـمْ وَلَاُمَنِّـيَنَّـهُـمْ وَلَاٰمُرَنَّـهُـمْ فَلَـيُـبَـتِّكُنَّ اٰذَانَ الْاَنْعَامِ وَلَاٰمُرَنَّـهُـمْ فَلَيُغَيِّـرُنَّ خَلْقَ اللّـٰهِ ۚ وَمَنْ يَّتَّخِذِ الشَّيْطَانَ وَلِيًّا مِّنْ دُوْنِ اللّـٰهِ فَقَدْ خَسِـرَ خُسْـرَانًا مُّبِيْنًا" ترجمہ : قسم ہے میں ضرور بہکا دوں گا اور ضرور انہیں آرزوئیں دلاؤں گا اور ضرور انہیں کہوں گا کہ وہ چوپایوں کے کان چیریں گے اور ضرور انہیں کہوں گا کہ وہ اللہ کی پیدا کی ہوئی چیزیں بدل دیں گے، اور جو اللہ کو چھوڑ کر شیطان کو دوست بنائے وہ صریح ٹوٹے میں پڑا''۔(سورہ نساء، آیت 119)خزائن العرفان میں ہے : جسم کو گود کر سرمہ یا سیندر وغیرہ جلد میں پیوست کر کے نقش و نگار بنانا، بالوں میں بال جوڑ کر بڑی بڑی جٹیں بنانا بھی اس میں داخل ہے۔(سورہ نساء، آیت 119)۔صحیح بخاری میں ہے : لعن الله الواشمات والمستوشمات، والمتنمصات، والمتفلجات للحسن، المغیرات خلق الله'' ترجمہ : اللہ عزوجل کی لعنت ہو گودنے، گودوانے والیوں،بال اکھاڑنے، اور خوبصورتی کے لئے دانتوں میں کھڑکیاں بنوانے والیوں، اور اللہ کی تخلیق میں تبدیلی کرنے والیوں پر ۔ (ج2/کتاب اللباس، باب المستوشمۃ، صفحہ 880)عمدۃ القاری میں ہے : '' (الواشمات) جمع واشمة من الوشم، وھو غرز ابرۃ او مسلة ونحوھما، فی ظھر الکف او المعصم او الشفة وغیر ذلک من بدن المراۃ حتی یسیل منه الدم، ثم یحشی ذلک الموضع بکحل او نورۃ او نیلة'' ترجمہ : واشمات وشمہ کی جمع ہے، یعنی گودنا، اور وہ یہ ہے کہ عورت کے ہاتھ کی پشت، کلائی، ہونٹ یا اس کے علاوہ کسی بھی جگہ سوئی یا نوک دار چیز پھیر دیا جاتا ہے، حتی کہ اس سے خون نکل جاتا ہے، پھر اس جگہ کو سرمہ، پاؤڈر یا نیل سے بھر دیا جاتا ہے ''۔( ج13/ کتاب تفسیر القرآن، سورہ حشر، آیت 7، صفحہ 388)۔

صورت مسئولہ میں جسم پر اس طرح کا ٹیٹو ڈیزائن بنوانا شرعاً ناجائز و ممنوع ہے۔ اگر بغیر مشقت کے اسے ختم کروانا ممکن ہو تو ختم کروانا لازم ہے،اور توبہ و استغفار کرے۔ ورنہ اس کو اسی حال میں رہنے دے،اور اسے چھپا کر رکھے اگر کوئی دیکھ لے تو اُسے کہہ دے کہ مىں نے توبہ کر لى ہے۔اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس کی توبہ و استغفار کرتا رہے۔اب اگر وہ صاف کیے بغیر وضو کرے گا تو وضو ہو جائے گا۔اور اس کی نماز بھی ہو جائے گی۔عمدۃ القاری میں ہے : فان امکن ازالته بالعلاج، وجبت ازالته، وان لم یمکن الا بجرح، فان خاف منه التلف او فوات عضو او منفعة عضو او شیأ فاحشا فی عضو ظاھر لم تجب ازالته، واذا تاب لم یبق علیه اثم، وان لم یخف شیأ من ذلک ونحوہ، لزمه ازالته ویعصی بتاخیرہ، وسواء فی هذا کله الرجل والمراۃ'' ترجمہ : پس اگر اس کا ازالہ علاج کے ذریعے ممکن ہو، تو ازالہ کرنا لازم ہے، اور اگر دوبارہ زخم دئیے بغیر ازالہ ممکن نہ ہو، اور اس سے عضو کے تلف ہو جانے، یا عضو کی منفعت فوت ہو جانے کا خوف ہو، یا جسم پر فحش تبدیلی کا خدشہ ہو تو ازالہ واجب نہیں، اور اس صورت میں توبہ کرے تو گناہ باقی نہ رہے گا،اور اس معاملے میں مرد و عورت دونوں برابر ہیں۔(ج13/کتاب تفسیر القرآن، سورہ حشر،آیت 7،صفحہ 388)۔فتاوی رضویہ میں ہے : یہ غالبا خون نکال کر اسے روک کر کیا جاتا ہے، جیسے نیل گدوانا، اگر یہی صورت ہو تو اس کے ناجائز ہونے میں کلام نہیں،اور جبکہ اس کا ازالہ ناممکن ہے، تو سوا توبہ واستغفار کے کیا علاج ہے، مولی تعالی عزوجل توبہ قبول فرماتا ہے''۔ (جلد 23/صفحہ 387)۔

وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_


کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ

حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔

24/ ذی الحجہ 1445ھ

01/ جولائی 2024ء

 رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad