تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

فاسق شخص کا سلام پڑھانا جائز ہے یا نہیں؟ اور اسے سلام پڑھانے دینا جائز ہے یا نہیں؟ فاسق شخص کی اذان دینا جائز ہے یا نہیں؟

0


فاسق شخص کا سلام پڑھانا جائز ہے یا نہیں؟



رقم الفتوی : 607



السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں جو شخص داڑھی کاٹتے ہو اس کو آذان اور سلام پڑھانا کیسا اور اگر پڑھا بھی دے تو اس پر کا حکم 🍃جواب مع دلیل عنایت فرماے عین نوازش ہوگی ❤️ 


سائل : محمد عبدالرقیب اسماعیلی 🍃 بہار

................................................

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

الجواب بعونہ تعالیٰ : داڑھی ایک مشت سے کم کرنا ناجائز و حرام ہے۔اور جو گناہ کبیرہ کا مرتکب ہو وہ فاسق ہے اور فاسق کی اذان دینا مکروہ ہے اور اَذان کا اعادہ کیا جائے۔ اور ایسے شخص کو سلام کے لئے آگے نہ بڑھایا جائے۔اس لئے کہ جب اسے سلام پڑھنے دیا جائے گا تو اس کی تعظیم ہوگی اور فاسق کی تعظیم کرنا جائز نہیں ہے۔در مختار میں ہے :و يكره اذان فاسق، و يعاد. (مخلصا ج 2/کتاب الصلاۃ، باب الأذان، صفحہ 75)رد المحتار میں ہے : فیعاد اذان الکل ندبا علی الصح کما قدمناہ عن القھستانی ملخصا۔( ج 2/کتاب الصلاۃ، باب الأذان، صفحہ 75) فتاویٰ رضویہ میں ہے : فاسق کی اذان اگر چہ اقامت شعار کاکام دے مگر اعلام کہ اس کا بڑا کام ہے اس سے حاصل نہیں ہوتا،نہ فاسق کی اذان پر وقت روزہ ونماز میں اعتماد جائز۔لہذا مندوب ہے کہ اگر فاسق نے اذان دی ہو تو اس پر قناعت نہ کریں بلکہ دوبارہ مسلمان متقی پھر اذان دے، تو جب تک یہ شخص صدق دل سے تائب نہ ہو اسے ہرگز مؤذن نہ رکھا جائے مسجد سے جدا کر دینا ضرور ہے۔ در مختار میں ہے :جزم المصنف بعدم صحۃ اذان مجنون ومعتوہ وصبی لایعقل، قلت وکافر وفاسق لعدم قبول قولہ فی الدیانات۔مصنف نے دیوانے، ناقص العقل اور ناسمجھ بچے کی اذان کے بارے میں عدم صحت کا قول کیا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ کافر وفاسق کا بھی یہی حکم ہے کیونکہ امور دینیہ میں ان کا قول قابل قبول نہیں۔( جلد 5/ صفحہ 377)۔بہار شریعت جلد اول میں ہے : خنثیٰ و فاسِق اگر چہ عالِم ہی ہو اور نشہ والے اور پاگل اور نا سمجھ بچّے اور جنب کی اَذان مکروہ ہے،ان سب کی اَذان کا اعادہ کیا جائے۔( حصہ سوم/ صفحہ 470)حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار میں ہے : فی تقدیمه تعظیمه وقد وجب علیھم اھانته شرعا ومفادھذا کراھة التحریم فی تقدیمه۔ یعنی فاسق کی تقدیم میں اس کی تعطیم ہے حالانکہ شرعا اس کی اہانت ان پر لازم ہے، یہ بات اس پر دال ہے کہ فاسق کی تقدیم مکروہ تحریمہ ہے۔(ج 1/ باب الامامۃ، صفحہ 243)۔

وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_


کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ

حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔

12/ رمضان المبارک 1445ھ

23/ مارچ 2024ء   

 رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad