رقم الفتوی : 608
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں ہمارے مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ زید ایک عالم دین ہے اور وہ اپنے شہر سے دور کسی مدرسے میں بچوں کو پڑھاتا ہے
پھر ایک دن زید اچانک اپنے گاؤں سے مدرسے میں ایک لڑکی کو لے کے آتا ہے اور دو یا تین دن تک اس لڑکی کے ساتھ زید رہتا ہے
جب پتہ کیا جاتا ہے تو زید کے گھر والوں سے پتہ چلتا ہے کہ زید نے ابھی تک اس لڑکی سے شادی نہیں کی ہے یعنی نکاح نہیں کیا ہے
اب مسئلہ یہ ہے کہ زید کا اس لڑکی کے ساتھ بغیر نکاح رہنا کیسا ہے اور زید کا کسی مدرسے میں پڑھانا یا کسی مسجد میں امامت کروانا کیسا ہے مہربانی کر کے جواب عنایت فرمائیں بڑی مہربانی ہوگی
سائل: قاری عبد السبحان رضوی ضلع ناگور راجستھان
....................................................
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ : مرد کا کسی اجنبیہ لڑکی سے ناجائز تعلقات رکھنا سخت ناجائز و حرام ہے۔اور اس کے ساتھ تنہا بیٹھنا (اور خلوت اختیار کرنا ) شرعا حرام ہے۔اور جو حرام کام کا مرتکب ہو اسے امام بنانا، اور مدرسے میں رکھنا ناجائز و گناہ ہے۔ ہاں البتہ اگر وہ سچے دل سے علانیہ توبہ واستغفار کر لے اور توبہ کے آثار ظاہر ہو تو وہ دونوں پر فائز ہو سکتے ہیں۔جامع ترمذی میں ہے : عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: " لا يخلون رجل بامراة إلا كان ثالثهما الشيطان۔ یعنی آگاہ ہو جاؤ کہ کوئی مرد کسی غیر محرم عورت کے پاس اکیلا نہیں بیٹھتا مگر حال یہ ہوتا ہے کہ تیسرا ان کے ساتھ شیطان ہوتا ہے۔( لہذا وہ لعین انھیں برائی میں ڈالنے کی کوشش کرتا ہے)۔(ج1/کتاب الرضاع، باب ماجاء فی کراہیۃ الدخول علی المغیبات، صفحہ 140)۔الاشباہ والنظائر میں ہے : وتحرم الخلوۃ بالاجنبیة ویکرہ الکلام معها۔یعنی غیر محرم عورت کے ساتھ تنہا بیٹھنا ( اور خلوت اختیار کرنا ) شرعا حرام ہے اور اس سے باتیں کرنا مکروہ اور ناپسندیدہ کام ہے۔( ج2/الفن الثالث احکام الانثی، صفحہ 175)۔ فتاویٰ رضویہ میں ہے : اجنبیہ عورت سے خلوت جہاں ہو حرام ہے۔( جلد 22/ صفحہ 213)۔اسی میں ہے : ایسے لوگ شرعا مستحق تذلیل واہانت ہیں اور نماز کی امامت ایک اعلیٰ درجہ کی تعظیم و تکریم ہے۔ شرع مطہر جس کی اہانت کا حکم دے اس کی تعظیم کیونکر روا ہوگی، ولہذا علماء کرام فرماتے ہیں کہ فاسق اگر چہ سب موجود میں سے علم میں زائد ہو اسے امام نہ کیا جائے کہ امامت میں اس کی تعظیم ہو حالانکہ شرعا اس کی توہین واجب ہے۔ مراقی الفلاح وفتح اللہ المعین وطحطاوی علی الدرالمختار میں ہے:اما الفاسق الاعلم فلا یقدم لان فی تقدیمه تعظیمه وقد وجب علیهم اھانته شرعا۔امام کے طور پر کسی فاسق کو برائے امامت آگے کرنا جائز اور درست نہیں خواہ وہ بڑا عالم ہی کیوں نہ ہو اس لئے کہ آگے کرنے میں اس کی تعظیم ہے اور فاسق کی تعظیم نہیں بلکہ ازروئے شرع اس کی توہین ضروری ہوتی ہے۔(جلد 22/ صفحہ 208)۔
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔
6/ محرم الحرام 1446ھ
13/ جولائی 2024ء
رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_

