تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

جیل سے چھڑانے کے لئے اس کے گھر والے کو فطرہ دے سکتے ہیں یا نہیں؟

0

 

جیل سے چھڑانے کے لئے اس کے گھر والے کو فطرہ دے سکتے ہیں یا نہیں؟

رقم الفتوی : 609



السلام علیکم رحمت اللہ وبرکاتہ

 کیا فرماتے ہیں علماءکرام اس مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ زید جو کے چور ہےکہ ایک بار چوری کرتے ہوئے پکڑے گئے اور جیل کی سزا ہوئی کسی طرح ضمانت دے کر چھڑایا گیا پھر اب کی بار چوری کرتے ہوئے پکڑے گئے اور گھر والوں کے پاس اتنا رقم نھیں ہے کہ چور کو چھڑائے اب گھر والے چور کو چھڑانے کیلئے فطرہ وصولنا چاہتے ہیں تو کیا ایسے لوگوں کو فطرہ دیگر چور کو جیل سے چھڑانے کیلئے فطرہ دے سکتے ہیں یا نہیں شریعت کی روشنی میں جواب عطا فرمائے اور شکریہ کا موقع دیں۔


 العارض محمد نجم الدین نو ری کچو باری لاھو گچھ

..........................................

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

الجواب بعونہ تعالیٰ : اگر ان کے گھر والے صدقۂ فطر کے مستحق ہیں تو دے سکتے ہیں ورنہ دینا جائز نہیں ہے اس لئے کہ صدقۂ فطر کے مصارف وہی ہیں جو زکاۃ کے ہیں یعنی جن کو زکاۃ دے سکتے ہیں۔انھیں فطرہ بھی دے سکتے ہیں اور جنھیں زکاۃ نہیں دے سکتے، انھیں فطرہ بھی نہیں سکتے۔ در مختار میں ہے : (صدقة الفطر كا لزكاة في المصارف) و في كل حال۔ (ج3/کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الفطر،مطلب في مقدار الفطرۃ بالمد الشامی،صفحہ 379)۔ بہار شریعت جلد اول میں ہے : صدقۂ فطر کے مصارف وہی ہیں جو زکاۃ کے ہیں یعنی جن کو زکاۃ دے سکتے ہیں،انھیں فطرہ بھی دے سکتے ہیں اور جنھیں زکاۃ نہیں دے سکتے، انھیں فطرہ بھی نہیں سوا عامل کے کہ اس کے لیے زکاۃ ہے فطرہ نہیں۔( حصہ پنجم/ صفحہ 946)۔

وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_


کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ

حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔

28/ رمضان المبارک 1445ھ

8/ اپریل 2024ء  

 رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_


Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad