تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

عدتِ وفات گزارنے کے بعد، بیوہ عورت کہاں رہے گی سسرال یا والدین کے گھر میں؟

0


عدتِ وفات گزارنے کے بعد، بیوہ عورت کہاں رہے گی سسرال یا والدین کے گھر میں؟

رقم الفتوی : 610



  ۔۔۔۔۔۔۔۔حضرت السلام علیکم۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سوال۔

حضرت ناہدہ بیگم بنت غلام قادر بٹ کا نکاح سرفراز احمد ابن فاروق احمد ملک کے ساتھ 27 ستمبر 2021 میں ہوا۔اور 26 جون 2022 کو سرفراز احمد ملک کی موت واقع ہوئی۔05 اکتوبر 2022 یعنی سرفراز احمد کے انتقال کے چھ ماہ بعد ناہدہ بیگم نے ایک لڑکی کو جنم دیا۔ناہدہ بیگم اپنے سسرال میں اپنی بیٹی کے ساتھ خوشی خوشی زندگی گزار رہی تھی کہ اچانک ناہدہ بیگم کا والد غلام قادر بٹ صاحب ناہدہ کے سسرال آ کر اس کو زبردستی واپس اپنے گھر لینا چاہتا ہے ۔جبکہ وہ جانا نہیں چاہتی ہے ۔وہ اپنے شوہر کی وراثت پر اپنی بیٹی کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتی ہے۔تو حضرت کیا ناہدہ بیگم کا والد اس کو زبردستی لے سکتا ہے۔یا ناہدہ بیگم کو شوہر کی وراثت پر رہنے کی شریعت اجازت دیتا ہے۔جواب سے اگاہ کریں حضرت۔

سائل: کیپٹن فاروق۔

...........................................

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

الجواب بعونہ تعالیٰ : عدتِ وفات گزارنے کے بعد،اگر مرحوم شوہر نے ترکہ میں مکان چھوڑا ہو تو بیوہ اس میں حصے کی حق دار ہے اور گھر میں اپنے حصے کے بقدر رہائش کا حق رکھتی ہے۔ اور اپنا حصہ وصول کرنے تک شوہر کے مکان میں رہ سکتی ہے، تاہم غیر محارم (دیور وغیرہ) سے پردے کا اہتمام کرے۔ اور اگر شوہر نے مکان نہیں چھوڑا ہے تو بیوہ اپنے حصہ وراثت کی حق دار ہے۔اگر بیوہ کے پاس اپنا یا شوہر سے وراثت کا اتنا مال ہو کہ وہ اپنی رہائش کا بندوبست کر سکے تو اس پر خود اپنی رہائش کا انتظام ضروری ہے، اور اس کے پاس وسائل نہیں ہیں تو قریبی رشتہ داروں پر اس کی رہائش کا بندوبست واجب ہے۔اور اگر سسرال میں بیوہ کو ناجائز تکالیف دی جائیں،اس کی حفاظت کا صحیح انتظام نہ ہو تو بیوہ کو جہاں سکون اور تحفظ میسر ہو۔ وہ وہاں رہے گی۔اور اس کی مرضی کے بغیر دوسری جگہ لے جانا جائز نہیں۔اس لئے کہ مسلمان کو جائز نہیں کہ دوسرے مسلمان کی لکڑی اس کی رضامندی کے بغیر لے۔جب اس کی لکڑی نہیں لے سکتے تو اس کی رضامندی کے بغیر کیسے لے جاسکتے ہیں۔مواد الظمان الی زوائد ابن حبان میں ہے : "وقال رسول ﷲ صلی ﷲ تعالی علیه وسلم لایحل لمسلم ان یاخذ عصا اخیه بغیر طیب نفس منه، قال ذٰلک لشدۃ ماحرم ﷲ من مال المسلم علی المسلم، رواہ ابن حبان" ترجمہ : اور رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کو حلال نہیں کہ دوسرے مسلمان کی چھڑی اس کی رضامندی کے بغیر لے لے۔ آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا یہ ارشاد کسی مسلمان کا مال مسلمان پر شدید حرام ہونے کی وجہ سے ہے۔ اس کو ابن حبان نے اپنی صحیح میں بیان کیا۔(کتاب البیوع، حدیث 1160)۔بہار شریعت جلد دوم میں ہے : جس مکان میں عدت گزارنا واجب ہے اُس کو چھوڑ نہیں سکتی مگر اُس وقت کہ اسے کوئی نکال دے مثلاً طلاق کی عدت میں شوہر نے گھر میں سے اس کو نکال دیا، یا کرایہ کامکان ہے اور عدت عدتِ وفات ہے مالک مکان کہتا ہے کہ کرایہ دے یا مکان خالی کر اور اس کے پاس کرایہ نہیں یا وہ مکان شوہر کا ہے مگر اس کے حصہ میں جتنا پہنچا وہ قابل سکونت نہیں اور ورثہ اپنے حصہ میں اسے رہنے نہیں دیتے یا کرایہ مانگتے ہیں اور پاس کرایہ نہیں یا مکان ڈھ رہا ہو یا ڈِھْنے کا خوف ہو یا چوروں کا خوف ہو، مال تلف ہو جانے کا اندیشہ ہے یا آبادی کے کنارے مکان ہے اور مال وغیرہ کا اندیشہ ہے تو ان صورتوں میں مکان بدل سکتی ہے۔ اور اگر کرایہ کا مکان ہو اور کرایہ دے سکتی ہے یا ورثہ کو کرایہ دے کر رہ سکتی ہے تو اُسی میں رہنا لازم ہے۔اور اگر حصہ اتنا ملا کہ اس کے رہنے کے لیے کافی ہے تو اُسی میں رہے اور دیگر ورثۂ شوہر جن سے پردہ فرض ہے اُن سے پردہ کرے اور اگر اُس مکان میں نہ چور کا خوف ہے نہ پروسیوں کا مگر اُس میں کوئی اور نہیں ہے اور تنہا رہتے خوف کرتی ہے تو اگر خوف زیادہ ہو مکان بدلنے کی اجازت ہے ورنہ نہیں اور طلاق بائن کی عدت ہے اور شوہر فاسق ہے اور کوئی وہاں ایسا نہیں کہ اگر اُس کی نیت بد ہو تو روک سکے ایسی حالت میں مکان بدل دے۔( حصہ 7/ صفحہ 248/247)۔

وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_


کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ

حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔

3/ ذی القعدہ 1445ھ

12/ مئ 2024ء  

 رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad