تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

دوسرے کو قسم دینے سے قسم واقع ہوگی یا نہیں؟

1


دوسرے کو قسم دینے سے قسم واقع ہوگی یا نہیں؟

رقم الفتوی : 611


السلام علیکم ورحمتہ وبرکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ زید نے اپنے بچوں سے ناراض ہو کر اپنی ایک بچی کو قسم دیکر یہ کہا کہ میں تجھے اپنی قسم دیتا ہوں میرے زندہ رہنے سے میرے مرنے تک تم مجھ سے بات چیت نہیں کروگی اور میرے مرنے کے بعد بھی میرے مردہ جسم میں بھی تم پانی نھیں ڈالو گی اور ساتھ ہی ساتھ اپنے بیوی کو یہ قسم دیکر یہ کہا کے اگر میرے مرنے کے بعد اس لڑکی کو میرے جسم میں پانی ڈالنے دوگی تو تم کو حشر کے دن اسکا جواب دینا ہوگا یا حشر کے دن تم باندھی جاؤگی لہذا شریعت کی روشنی میں جواب عطا فرمائیں کہ صورت ھذا میں زید کے لئے و زید کی بیٹی اور زید کی بیوی کے لئے شریعت کا کیا حکم ہے کیا صورت ھذا میں زید کی بیوی بیٹی پر قسم واقع ھوگا یا نہیں اور اگر اپنے ظاہری حیات میں کبھی بھی اپنے بیوی بیٹی کے اوپر قسم ہٹانا چاہے تو ہٹا سکتا ہے یا نہیں ہٹانے کی صورت میں کیا زید پر فدیہ دینا ہوگا برائے کرم شریعت روشنی میں جواب عطا فرمائے مہربانی ہوگی فقط وسلام آپکا خدمت گزار۔

الحقیر محمد نجم الدین لاھوگچھ کچو باری بدھان نگر

...............................................

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

الجواب بعونہ تعالیٰ : صورت مذکورہ میں یہ جملہ "میں تجھے اپنی قسم دیتا ہوں" اس سے قسم واقع نہیں ہوئی۔اس لئے کہ دوسرے کے قسم دلانے سے قسم نہیں ہوتی ہے۔جب قسم واقع نہیں ہوئی تو اس سے مذکورہ چیزیں لاگو نہیں ہوگا۔ یونہی بیوی کے اوپر بھی۔اس کے خلاف کرنے پر کسی پر کوئی کفارہ لازم نہیں ہوگا۔رہا بلا وجہ شرعی کسی انسان سے تین سے زیادہ بات نہ کرنا یہ حرام ہے زید پر ضروری ہے کہ وہ حرام کام سے بچے اور اپنی بیٹی سے بات کرے۔ اور بیٹی پر ضروری ہے کہ وہ والد سے معافی مانگے اور ناراضی کو ختم کرائیں۔لہذا اولاد پر لازم ہے کہ جائز امور میں والدین کی اطاعت کرے اور ان کی ناراضی سے بچے۔اور اپنے کسی بھی فعل سے والدین کو اذیت نہ پہنچائے اور انہیں راضی رکھنے کی بھر پور کوشش کرے کہ اسی میں دین و دنیا کی کامیابی رکھا ہے۔ فتاویٰ ہندیہ میں ہے : رجل مر على رجل فاراد الرجل أن يقوم فقال المار والله كه نخيزي فقال لا يلزم المار شيء.(ج2/ کتاب الأیمان،الباب الثانی فیما یکون یمینًا۔۔۔۔۔۔۔إلخ،الفصل الاول، صفحہ 60)۔دوسری جگہ میں ہے : رجل قال لآخر: و الله لتفعلن کذا والله لتفعلن کذا فقال الآخر: نعم.......ان اراد المبتدئ ان یکون مستحلفاً و اراد المجیب ان لا یکون علیه یمین و یکون قوله نعم علی میعاد من غٖیر یمین فھو کما نوی و لا یمین علی واحد منھما کذا فی الخلاصة، و ھکذا فی الوجیز للکردری و محیط السرخسی۔(ج2/ کتاب الأیمان،الباب الثانی فیما یکون یمینًا۔۔۔۔۔۔۔إلخ،الفصل الاول،صفحہ 60)۔بہار شریعت جلد دوم میں ہے :دوسرے کے قسم دلانے سے قسم نہیں ہوتی مثلاً کہا تمھیں خدا کی قسم یہ کام کردو تو اس کہنے سے اوس پر قسم نہ ہوئی یعنی نہ کرنے سے کفارہ لازم نہیں ایک شخص کسی کے پاس گیا اوس نے اوٹھنا چاہا اوس نے کہا خداکی قسم نہ اوٹھنا اور وہ کھڑا ہوگیا تو اوس قسم کھانے والے پر کفارہ نہیں۔( حصہ 9/ صفحہ 309)۔سنن ابی داؤد میں ہے : عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا يحل لمسلم أن يهجر أخاه فوق ثلاث، فمن هجر فوق ثلاث فمات دخل النار۔ترجمہ : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے فرض مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مسلمان کے لیے حلال نہیں کہ اپنے بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑ دے، پھر جس نے ایسا کیا اور مر گیا تو جہنم میں گیا۔(ج4/کتاب الادب،باب فیمن یہجر اخاہ المسلم، صفحہ 279)۔

وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_


کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ

حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔

12/ محرم الحرام 1446ھ

18/ جولائی 2024ء

 رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_

Post a Comment

1 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Top Post Ad

Below Post Ad