رقم الفتوی : 626
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء اہلسنت مسٸلہ ذیل کے بارے میں
ذید جوکہ ایک عالم دین ہے دوران بیان اسنے کہا کہ
نماز یا ترایح کی نماز کے لٸے جو یہ طے کرتے ہیں کہ میں اتنا روپیہ لونگا تب پڑھاٶنگا یہ جاٸز نہیں ہے۔۔۔۔۔۔
کیا ایسا کہنا درست ہے اگر صحیح ہے تو کتب علماء کے حوالہ سے جواب عنایت فرماٸیں نوازش ہوگی
ساٸل ۔۔۔ محمدعارف رضا حشمتی
............................................
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ : اصل یہ ہے کہ طاعت و عبادات پر اجرت لینا دینا مطلقاً حرام ہے، سوائے قرآن عظیم کی تعلیم، دیگر دینی علوم، اذان اور امامت پر اجرت لینا جائز ہے جیسا کہ متاخرین ائمہ نے موجودہ زمانہ میں شعائر دین و ایمان کی حفاظت کے پیش نظر فتوٰی دیا ہے۔ردالمحتار میں ہے : ولا نصح الإجارة لأجل الطاعات ولا في القراءة المجردة فإنه لا ضرورة فيها فالحاصل أن ما شاع في زماننا من القراءة الاجزاء بالأجرة لا يجوز لان فيه الأمر بالقراءة واعطاء الثواب للأمر والقراءة لأجل المال فاذا لم يكن للقارئ ثواب بعدم النية الصحية فاين يصل الثواب الي المستأجر ولولا الأجرة ما قرأ أحد لأحد في هذا الزمان بل جعلوا القرآن العظيم مكسبا ووسيلة الي جمع الدنيا۔ ( ملخصا ج 9/ کتاب الاجارۃ، باب الاجارۃ الفاسدۃ صفحہ 76/77) فتاویٰ رضویہ میں ہے : اصل یہ ہے کہ طاعت وعبادات پر اجرت لینا دینا (سوائے تعلیم قرآن عظیم وعلوم دین و اذان وامامت وغیرہا معدودے چند اشیاء کو جن پر اجارہ کرنا متاخرین نے بنا چاری ومجبوری بنظر حال زمانہ جائز رکھا) مطلقا حرام ہے، اور تلاوت قرآن عظیم بغرض ایصال ثواب وذکر شریف میلاد پاک حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ضرورت منجملہ عبادات وطاعت ہیں تو ان پر اجارہ بھی ضرور حرام ومحذور ۔اور اجارہ جس طرح صریح عقد زبان سے ہوتا ہے عرفا شرط معروف ومعہود سے بھی ہوجاتا ہے مثلاً پڑھنے پڑھوانے والوں نے زبان سے کچھ نہ کہا مگر جانتے ہیں کہ دینا ہوگا وہ سمجھ رہےہیں کہ کچھ ملے گا انھوں نے اس طور پر پڑھا انہوں نے اس نیت سے پڑھوایا اجارہ ہو گیا اور اب دو وجہ سے حرام ہوا ایک طاعات پر اجارہ یہ خود حرام ہے دوسرے اجرت اگر عرف معین نہیں تو اس کی جھالت سے اجارہ فاسد یہ دوسرا حرام ہے۔پس اگر قرار داد کچھ نہ ہو، وہاں لین دین معہود ہوتا ہو تو بعد کو بطور صلہ وحسن سلوک کچھ دے دینا جائز بلکہ حسن ہے، هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ" وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ " ترجمہ : احسان کی جزاء صرف احسان ہے۔ اور اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کو پسند فرماتاہے۔مگر جبکہ اس طریقہ کا وہاں عام رواج ہے تو صورت ثانیہ میں داخل ہو کر حرام محض ہے،اب اس کے حلال ہونے کی دو طریقے ہیں(1) اول یہ کہ قبل قرآت پڑھنے والے صراحتاً کہہ دیں کہ ہم کچھ نہ لیں گے پڑھوانے والے صاف انکار کر دیں کہ تمہیں کچھ نہ دیا جائے گا اس شرط کے بعد پڑھیں اور پڑھوانے والے بطور صلہ جو چاہیں دے دیں یہ لینا دینا حلال ہوگا ( 2) دوم پڑھوانے والے پڑھنے والوں سے بہ تعیین وقت واجرت ان سے مطلق کار خدمت پر پڑھنے والوں کو اجارے میں لے لیں مثلا یہ ان سے کہیں ہم نے کل صبح سات بجے سے بارہ بجے تک بعوض ایک روپیہ کے اپنے کام کاج کے لئے اجارہ میں لیا وہ کہیں ہم نے قبول کیا اب یہ پڑھنے والے اتنے گھنٹوں کےلئے ان کے نوکر ہو گئے وہ جو کام چاہیں لیں اس اجارہ کے بعد وہ ان سے کہیں اتنے پارے کلام اللہ شریف کے پڑھ کر ثواب فلاں کو بخش دو یامجلس میلاد مبارک پڑھ دو یہ جائز ہوگا اور لینا دینا حلال۔ (ملخصا جلد 19 صفحہ 488/486)۔
لہذا صورت مسئولہ میں صرف تراویح پڑھانے کی اجرت لینا اور دینا جائز نہیں،اسی طرح جہاں تراویح پڑھانے کی اجرت لینا اور دینا متعین کرتے ہیں، لیکن پتا ہے کہ ختم قرآن پر کچھ نہ کچھ روپے پیسے یا کسی اور صورت میں ضرور دیا جائےگا، وہ بھی ناجائز و گناہ ہے، البتہ اگر کوئی چاہتا ہے کہ گناہ بھی نہ ہو اور اجرت بھی جائز ہو جائے،تو اوپر مذکورہ بالا صورتوں پر عمل کرے جواز کا حکم موجود ہے۔ورنہ اب دو دو وجہ سے حرام ہو گا، ایک تو طاعت پر اجارہ یہ خود حرام، دوسرے اجرت اگر عرفا معین نہیں تو اس کی جہالت سے اجارہ فاسد، یہ دوسرا حرام۔البتہ اگر وہاں کا عرف و رواج نہ لینے کا ہو نہ دینے کا ہو تو بطور صلہ وحسن سلوک دے دینا اور لے لینا جائز ہے۔
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔
15/ ربیع الآخر 1446ھ
19/ اکتوبر 2024ء
رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_

