تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

دو بیوی دو بہن اور چچا کو ترکہ میں سے کتنا کتنا حصہ ملے گا؟

0


دو بیوی دو بہن اور چچا کو ترکہ میں سے کتنا کتنا حصہ ملے گا؟

رقم الفتوی : 630



 زید میت٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠

۲ زوجہ ٠٠٠٠٠٠٠٠  ٢ بہن ٠٠٠٠٠٠٠ ایک چچا -
دریافت طلب امر یہ ہے کہ زید مرا اور دو بیوی، دو بہن اور ایک چچا چھوڑا - ازروئے شرع اس میں سے کس کا کتنا حصہ بنے گا ؟ بینوا بالکتاب توجروا یوم الحساب -
سائل:- محمد کوثر رضا کٹیہار
................................

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
بر تقدیر صدق سوال "بعد تقديم ما تقدم على الإرث وانحصار ورثة في المذكورين" زید کی جائداد منقولہ غیر منقولہ کو چوبیس (24) حصے کئے جائیں گے دو بہنوں کو سولہ (16) حصے یعنی ہر ایک بہن کو آٹھ آٹھ کر کے۔اور دو بیوی کو چھ (6) حصے یعنی ہر ایک بیوی کو تین تین کر کے حصہ ملے گا اور چچا کو دو (2) حصہ ملے گا۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : وَ لَهُنَّ  الرُّبُعُ  مِمَّا  تَرَكْتُمْ  اِنْ  لَّمْ  یَكُنْ  لَّكُمْ  وَلَدٌۚ-فَاِنْ كَانَ  لَكُمْ  وَلَدٌ  فَلَهُنَّ  الثُّمُنُ  مِمَّا  تَرَكْتُمْ  مِّنْۢ  بَعْدِ  وَصِیَّةٍ  تُوْصُوْنَ بِهَاۤ  اَوْ  دَیْنٍؕ-وَ  اِنْ  كَانَ  رَجُلٌ  یُّوْرَثُ  كَلٰلَةً اَوِ امْرَاَةٌ  وَّ  لَهٗۤ  اَخٌ  اَوْ  اُخْتٌ  فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُۚ-فَاِنْ كَانُوْۤا  اَكْثَرَ  مِنْ  ذٰلِكَ فَهُمْ  شُرَكَآءُ فِی الثُّلُثِ  مِنْۢ  بَعْدِ  وَصِیَّةٍ  یُّوْصٰى بِهَاۤ  اَوْ  دَیْنٍۙ-غَیْرَ  مُضَآرٍّۚ-وَصِیَّةً  مِّنَ  اللّٰهِؕ-وَ  اللّٰهُ  عَلِیْمٌ  حَلِیْمٌؕ-"ترجمہ: اور تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں جو وصیت تم کر جاؤ اور دَین نکال کر، اور اگر کسی ایسے مرد یا عورت کا ترکہ بٹتا ہو جس نے ماں  باپ اولاد کچھ نہ چھوڑے اور ماں کی طرف سے اس کا بھائی یا بہن ہے تو ان میں سے ہر ایک کو چھٹا۔ پھر اگر وہ بہن بھائی ایک سے زیادہ ہوں  تو سب تہائی میں شریک ہیں۔ میت کی وصیت اور دَین نکال کر جس میں اس نے نقصان نہ پہنچایا، یہ اللّٰہ (عزوجل) کا ارشاد ہے۔ اور اللّٰہ   (عزوجل) علم والا، حلم والا ہے۔(پارہ4/  سورہ نساء آیت12)۔درمختار میں ہے : يجوز العصبة بنفسه ما أبقت الفرائض وعند الانفراد يجوز جميع المال ۔ اسی میں ہے : يقدم الاقرب فالاقرب۔ ( ج 10/ کتاب الفرائض صفحہ 517/518 )۔فتاویٰ ہندیہ میں ہے :.إذا انفرد أخذ جميع المال. ( الباب الثالث فی العصبات، صفحہ 451)اسی میں ہے: الاقرب يحجوب الا بعد كالابن يحجب اولاد الابن ۔( ج6/ کتاب الفرائض، الباب الرابع فی الحجب، صفحہ 452)۔


وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_


کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ

حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔

16/ صفر المظفر 1446ھ
22/ اگست 2024ء

 رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad