رقم الفتوی : 629
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام کہ
کسی سنی کو وہابی کے قبرستان میں دفن کرنا کیسا ہے اور اگر دفن کر دیا تو کیا حکم شرع ہوگا سنی امام نے بھی اس قبرستان میں جاکر اس سنی مردے کی نماز جنازہ پڑھا دی منع بھی کیا لیکن لوگوں نے نہیں سنا مجبورا جاکے جنازہ پڑھا دی تو ایسے امام پر کیا کوئی حکم شرع ہوگا ؟ تفصیل و دلیل کے ساتھ جواب دیں مہربانی ہوگ
سائل. محمد عرفان رضا. بنگال
.............................................
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ : سنی کو وہابی کے قبرستان میں دفن کرنا جائز نہیں۔بعد دفن ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا جائز نہیں۔ جو سنی لوگ شریک رہے سب گناہگار ہوئے۔ سنی امام سنی میت کی نماز جنازہ پڑھانا جائز ہے مگر وہابی کے قبرستان میں جاکر پڑھانا جائز نہیں۔ اور وہ بھی علی الاعلان توبہ واستغفار کرے اور آئندہ اس طرح کا قدم نہ اٹھائے۔ البتہ جو ان کے عقائد پر مطلع ہو کر انہیں مسلمان جانتے ہوئے یا ان کے کفر میں شک کرتے ہوئے ان کے قبرستان میں دفن کیئے تو وہ بھی کافر ہے وہ از سرے نو ایمان لائے اگر وہ بیوی والا ہو تو تجدید نکاح بھی کرے۔اور جن لوگ کو ان کے عقائد کے بارے میں اجمالاً خبر نہیں صرف اتنا معلوم ہے کہ یہ برے لوگ بد عقیدہ بد مذہب ہیں پھر بھی ان کی قبرستان میں دفن کیا تو یہ سخت حرام ہے۔وہ بھی توبہ واستغفار کرے۔قرآن پاک میں ہے : وَإِمَّا يُنسِيَنَّكَ الشَّيْطَانُ فَلاَ تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرَى مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ. ترجمہ: اور جو کہیں تجھے شیطان بھلاوے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔( پارہ 7 سورہ انعام آیت 68)۔مسلم شریف میں ہے : فاياكم واياهم لا يضلونكم ولا يفتنونكم۔ ترجمہ: تم ان سے دور رہنا وہ تم سے دور رہیں کہیں وہ تم کو گمراہ نہ کریں اور تم کو فتنہ میں نہ ڈال دیں۔ ( ج 1 باب فی الضعفاء والکذابین صفحہ 10)جامع الاحادیث الجامع الصغیر وزوائدہ والجامع الکبیر میں ہے : قال النبي صلى الله عليه وسلم فلاتؤاكلوهم ولاتشاربوهم ولاتجالسوهم ولاتصلواعليهم ولا تصلوا معهم۔ ترجمہ: نہ ان کے ساتھ کھانا کھاؤ، اور نہ ان کے ساتھ پانی پیو، نہ ان کے پاس بیٹھو،نہ ان کے ساتھ نمازپڑھو، نہ ان کے جنازہ کی نماز پڑھو۔ ( جلد 2 صفحہ 466 )۔
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔
20/ صفر المظفر 1446ھ
26/ اگست 2024ء
رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_

