رقم الفتوی : 631
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسلہ پر
زید کا انتقال ہوا اس نےاپنی وراثت میں 500000روپیہ چھوڑا اب زید کی5 اولاد ہے جس میں سے 4 لڑکے اور 1 لڑکی ہے ان میں سے کس کو کتنی وراثت شریعت کے اعتبار سے ملنی چاہیے واضح فرمائیں
سائیل : علی مرتضی پونا
..................................................
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ : صورت مسئولہ میں بر تقدیر صدق سوال "بعد تقديم ما تقدم على الإرث وانحصار ورثة في المذكورين" زید کی جائداد منقولہ غیر منقولہ کو نو (9) حصے کئے جائیں گے چار بیٹے کو آٹھ (8) حصے یعنی ہر ایک بیٹا کو دو دو کر کے۔اور ایک بیٹی کو ایک (1) حصے ملے گا جب کہ ان کے علاوہ اور کوئی وارث نہ ہو۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : يُوْصِيْكُمُ اللّـٰهُ فِىٓ اَوْلَادِكُمْ لِلـذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَيَيْنِ"ترجمہ: بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ۔(پارہ4/ سورہ نساء آیت11)۔
بلفظ دیگر 500000 لاکھ میں چار بیٹے کو444,444.44/ ملے گا یعنی ہر ایک بیٹا کو111,111.11 کر کے ملے گا۔اور ایک بیٹی کو 55,555.55 ملے گا۔
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔
20/ صفر المظفر 1446ھ
26/ اگست 2024ء
رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_

