تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

فون پر طلاق دینے سے واقع ہوگی یا نہیں؟ نو دس بار طلاق دینے سے کتنی طلاق واقع ہوگی؟

0


فون پر طلاق دینے سے واقع ہوگی یا نہیں؟




رقم الفتوی : 633


السلام علیکم و رحمتہ اللہ 

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کےبارے میں کہ ایک شخص نے ممبئی سے اپنی والدہ کو فون کیا اور اپنی بیوی کے بارے میں یہ الفاظ کہے کہ آپ نے میری شادی زبردستی کروائی ہوئی ہے اور میرے باپ نے میرے پاؤں پکڑے تھے کہ تو یہاں شادی کر لے میں اس شادی سے خوش نہیں ہوں اور اس سے مکان کی چابی لے لو اسے میکے میں بھیج دو میری طرف سے طلاق ہے۔ایک بار ایک طلاق کہا دوسری بار نو ٩یا دس ١٠ بار اور تیسری بار چار ٤ پانچ ٥ بار کہہ دیا اور آخر میں یہ کہا کہ اور کتنی بار کہو اتنے میں والدہ نے فون ہی کاٹ دیا اور ان الفاظ کی ریکارڈنگ موجود ہے۔تو کیا ایسیے صورت میں طلاق ہوئی کہ نہیں اور ایسی صورت میں ان دونوں کا اکھٹا رہنا اور ان الفاظ کو نہ ماننا کہ میری طلاق ہوئی ہی نہیں ان سب کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے۔لہذا قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل جواب عنایت فرما کر شکریہ کاموقع فراہم کیجئے 

سائل : شکیل رضا جموں وکشمیر

.........................................

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

الجواب بعونہ تعالیٰ :اگر وہ شخص نے واقعی ہی اپنی بیوی کو فون پر 10/9 بار طلاق دی تو تین طلاق واقع ہوگئی اور باقی لغو۔اب عورت مرد پر حرام ہو گئی ہے اور بغیر حلالہ کے رکھنا جائز نہیں۔قرآن مجید میں ہے: فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهٗؕ۔ترجمہ: پھر اگر تیسری طلاق دی اس کے بعد وہ اس سے حلال نہ ہو گی جب تک دوسرے شوہر سے نکاح نہ کرے (پارہ 2 سورہ بقرہ آیت230)۔ فتاویٰ ہندیہ میں ہے: ان کان الطلاق ثلاثا لم تحل له حتی تنکح زوجا غیرہ نکاحا صحیحا و یدخل بها ثم یطلقها أو یموت عنها ۔یعنی اگر دوسرے شوہر نے بغیر ہمبستری کے طلاق دی یا مرگیا تو حلالہ صحیح نہ ہوگا ( ج 1 کتاب الطلاق صفحہ 473)۔

لہذا وہ شخص پر لازم ہے کہ وہ فوراً جدا ہو جائیں اور اپنا گناہ سے توبہ کرے اگر دوبارہ رکھنا چاہئے تو حلالہ کرے۔بعد حلالہ اس کے ساتھ رہنا جائز ہے۔اگر زید نہ مانے تو گھر والوں،رشتہ داروں اور اہل محلہ پر لازم ہے کہ وہ حسبِ استطاعت ان کو اکٹھے رہنے سے روکیں۔اگر یہ دونوں باز نہ آئیں۔تو ان سے قطع تعلقی کرنا چاہیے۔وقار الفتاوٰی میں ہے : جس شخص نے مطلقہ ثلاثہ کو اپنے پاس رکھا ہے،وہ حرام کاری میں مبتلا ہوا۔اہل محلہ اور رشتہ داروں کو اس سے ملنا جلنا ناجائز و گناہ تھا،جب تک وہ اس عورت کو اپنے سے جدا نہ کردے اور بالاعلان توبہ نہ کرے۔(جلد3/صفحہ165)۔حلالہ کی صورت یہ ہے کہ عدت گزرنے کے بعد وہ عورت کسی سنی صحیح العقیدہ سے صحیح نکاح کرے دوسرا شوہر اس کے ساتھ کم سے کم ایک بار ہمبستری کرے پھر وہ مرجائے یا طلاق دیدے تو دوبارہ عدت گزارنے کے بعد وہ زید سے نکاح کر سکتی ہے اگر شوہر ثانی نے بغیر ہمبستری طلاق دیدی یا مرگیا تو حلالہ صحیح نہیں ہوگا كما في حديث العسيلة۔

وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_


کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ

حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔

23/ ذی الحجہ 1445ھ

30/ جون 2024ء

 رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad