تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

دو بیویوں کو طلاق دینے سے کونسی بیوی پر طلاق واقع ہو گی؟ شوہر کو بیوی پر طلاق واقع کرنے کا اختیار ہے یا نہیں؟

0
دو بیویوں کو طلاق دینے سے کونسی بیوی پر طلاق واقع ہو گی؟


رقم الفتوی : 695



السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

اگر دونوں بیویوں میں سے کسی کی نیت نہ ہو تو طلاق واقع ہو گی یا نہیں؟ اس کی رہنمائی فرما دیں مفتی صاحب قبلہ۔۔۔

سائلہ : فلک فاطمہ

........................................

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

الجواب بعونہ تعالیٰ : اگر صریح لفظ سے طلاق دی ہے تو طلاق واقع ہو جائے گی اگر چہ نیت نہ ہو۔ البتہ شوہر کو اختیار ہے کہ ان دونوں میں سے ایک کو تعیین کرے جسے تعیین کرے گا اس پر طلاق واقع ہو جائے گی۔تعیین سے قبل کسی بیوی سے صحبت جائز نہیں لیکن اس کے باوجود اگر کسی ایک سے تعیین سے پہلے صحبت کرلیا تو گرچہ گناہ گار ہوا لیکن یہ صحبت تعیین کے قائم مقام ہوجائے گی یعنی دوسری بیوی مطلقہ ہوجائے گی۔در مختار مع الرد محتار میں ہے : (ولو قال امرأتي طالق وله امرأتان أو ثلاث تطلق واحدة منهن وله خيار التعيين) اتفاقا. " (ج3/کتاب الطلاق، باب صریح الطلاق، صفحہ 290)۔بدائع الصنائع میں ہے : إذا قال لامرأتيه إحداكما طالق ثلاثا فله خيار التعيين يختار أيهما شاء للطلاق؛ لأنه إذا ملك الإبهام ملك التعيين.( ج3/ کتاب الطلاق،صفحہ 225)۔الأشباه والنظائر میں ہے : وقالوا: لو طلق إحدى زوجتيه مبهما حرم الوطي قبل التعيين، ولهذا كان وطء احديهما تعيينا لطلاق الأخرى. ( صفحہ 339، دار الكتب العلمية بيروت)۔

وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_


کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ

حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔

06/ ربیع الاول 1447ھ

30/ اگست 2025ء 

 رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_


Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad