رقم الفتوی : 696
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید ہے کہ مفتی صاحب قبلہ بخیر و عافیت ہوں گے اللہ پاک آپ کے علم عمل خلوص رزق اور عمر میں خوب برکت عطا فرمائے۔ سوال عرض یہ ہے کہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین مفتیان شرع متین بیچ اس مسئلہ کے بارے میں جس مسجد میں نماز پڑھنے جاتا ہوں اس میں اکثر جمعہ کے دن تاخیر ہوتا ہے وقت ایک بچ کر 40 منٹ پر جماعت کا ٹائم مقرر ہے لیکن وقت پر جماعت کھڑی نہیں ہوتی دریافت یہ ہے کہ ہر جمعہ وقت مقررہ لکھنے کے باوجود اکثر لگ بھگ 10 منٹ تاخیر سے جماعت کھڑی کی جاتی ہے آیا یہ جامع مسجد کمیٹی کا اس طرح نظام رکھنا شرعا درست ہے یا نہیں؟
سائل : بندئہ خدا
.....................................................
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ : صورت مسئولہ میں گھڑی کے مطابق جو جماعت کا وقت مقرر کیا جاتا ہے وہ لوگوں کی سہولت کے لئے مقرر کیا جاتا ہے وہ شرعی وقت نہیں ہے شرعی وقت نماز کے لئے الگ ہے کوئی امام یا کمیٹی کی جانب سے اگر کبھی کبھی ایک منٹ، دو منٹ تاخیر ہو جاتے ہیں تو شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن اگر کوئی امام یا کمیٹی والے کی طرف سے ہمیشہ پانچ منٹ دس منٹ تاخیر کرتے ہیں اور یہ ان کی عادت ہے تو یہ سخت ناپسندیدہ عمل ہے امام صاحب اور کمیٹی والے کو چاہئے کہ وہ وقت کی پابندی کریں،اور اس کی وجہ سے لوگوں کو پریشانی ہو سکتی ہے۔ اگر امام صاحب یا کمیٹی والے کسی عذر کی وجہ سے تاخیر کر رہے ہیں تو لوگوں کو اس کا انتظار کرنا چاہیے، البتہ اگر شرعی وقت میں نماز ادا کی جا رہی ہے تو نماز ہو جائے گی۔صحيح مسلم میں ہے : عن جابر ، قال: كان معاذ، يصلي مع النبي صلى الله عليه وسلم، ثم ياتي فيؤم قومه، فصلى ليلة مع النبي صلى الله عليه وسلم العشاء، ثم اتى قومه فامهم، فافتتح بسورة البقرة، فانحرف رجل، فسلم، ثم صلى وحده وانصرف، فقالوا له: انافقت يا فلان؟ قال: لا والله، ولآتين رسول الله صلى الله عليه وسلم فلاخبرنه، فاتى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: يا رسول الله، إنا اصحاب نواضح، نعمل بالنهار، وإن معاذا، صلى معك العشاء، ثم اتى فافتتح بسورة البقرة، فاقبل رسول الله صلى الله عليه وسلم على معاذ، فقال: يا معاذ، افتان انت، اقرا بكذا، واقرا بكذا، قال سفيان : فقلت لعمرو: إن ابا الزبير حدثنا، عن جابر ، انه قال: اقرا: والشمس وضحاها، والضحى، والليل إذا يغشى، وسبح اسم ربك الاعلى، فقال عمرو: نحو هذا "۔ ترجمہ : حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا : حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھا کرتے تھے، پھر آ کر اپنے قبیلے کی (مسجد میں) امامت کراتے، ایک رات انہوں نے عشاء کی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی، پھر اپنی قوم کے پاس آئے، ان کی امامت کی اور (سورہ فاتحہ کے بعد) سورہ بقرہ پڑھنی شروع کر دی۔ ایک شخص الگ ہو گیا (نماز سے، سلام پھیرا، پھر اکیلے نماز پڑھی اور چلا گیا) تو لوگوں نے اس سے کہا: اے فلاں! کیا تو منافق ہو گیا ہے؟ اس نے جواب دیا: اللہ کی قسم! نہیں، میں ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کو اس معاملے سے آگاہ کروں گا، چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم ان اونٹوں والے ہیں جو پانی ڈھوتے ہیں، دن بھر کام کرتے ہیں اور معاذ رضی اللہ عنہ نے عشاء کی نماز آپ کے ساتھ پڑھی، پھر آ کر سورہ بقرہ کے ساتھ نماز شروع کر دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ سن کر) حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کی طرف رخ کیا اور فرمایا: ”اے معاذ! کیا لوگوں کو فتنے میں مبتلا کرنے والے ہو؟ فلاں سورت پڑھا کرو اور فلاں سورت پڑھا کرو۔“ سفیان نے کہا: میں نے عمرو سے کہا: ابوزبیر نے ہمیں جابر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ آپ نے فرمایا: «والشمس وضحاها»، «والضحى»، «والليل إذا يغشى» اور «سبح اسم ربك الأعلى» پڑھا کرو۔ اور عمرو نے کہا: اس جیسی (سورتیں پڑھا کرو)۔( كتاب الصلاة،باب القراءة في العشاء)۔
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔
24/ صفر المظفر 1447ھ
19/ اگست 2025ء
رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_

