رقم الفتوی : 698
السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ بعد سلام عرض ہے کہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کے پاس دوعورتیں تھیں لڑائی جھگڑا کی بنیاد پر اس نے اپنے دونو زوجیہ کو طلاق دے دیا اور طلاق کے الفاظ یہ ہے کہ میں تم دونوں کو طلاق دیتا ہوں یہ لفظ تقریباً دس مرتبہ کہا ہے اس کے بعد دونوں کو میکے بھیج دیا اس کے چند دن کے بعد واپس لے آیا ہے خلاصیہ کلام یہ ہے کہ حضور کیا طلاق واقع ہو گی کہ نہیں تسلی بخش جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہو گی۔
سائل : مولانا محبوب رضا قادری چہلوی ضلع شراو ستی فقط والسلام
.........................................
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ : لڑائی جھگڑے کی بنیاد پر جب شوہر نے اپنی دونوں بیویوں کو مذکور الفاظ" میں تم دونوں کو طلاق دیتا ہوں" تقریباً دس مرتبہ کہا ہے تو اس سے اس کی دونوں بیویوں پر طلاق مغلّظہ واقع ہو گئی، اب بغیر حلالہ کئے حلال نہیں۔قرآن مجید میں ہے: فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهٗؕ۔ترجمہ: پھر اگر تیسری طلاق دی اس کے بعد وہ اس سے حلال نہ ہو گی جب تک دوسرے شوہر سے نکاح نہ کرے (پارہ 2 سورہ بقرہ آیت230)۔ فتاویٰ ہندیہ میں ہے: ان کان الطلاق ثلاثا لم تحل له حتی تنکح زوجا غیرہ نکاحا صحیحا و یدخل بها ثم یطلقها أو یموت عنها ۔یعنی اگر دوسرے شوہر نے بغیر ہمبستری کے طلاق دی یا مرگیا تو حلالہ صحیح نہ ہوگا ( ج 1 کتاب الطلاق صفحہ 473)۔
لہذا زید پر لازم ہے کہ وہ فوراً دونوں سے جدا ہو جائے اور اپنے گناہ سے توبہ کرے اگر زید دوبارہ رکھنا چاہتا ہے تو حلالہ کرائے۔حلالہ کی صورت یہ ہے کہ عدت گزرنے کے بعد وہ عورت کسی سنی صحیح العقیدہ سے صحیح نکاح کرے دوسرا شوہر اس کے ساتھ کم سے کم ایک بار ہمبستری کرے یا وہ مرجائے یا طلاق دیدے تو دوبارہ عدت گزارنے کے بعد وہ زید سے نکاح کر سکتی ہے اگر شوہر ثانی نے بغیر ہمبستری طلاق دیدی یا مرگیا تو حلالہ صحیح نہیں ہوگا كما في حديث العسيلة۔
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی، سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔
01/ ربیع الاول 1447ھ
25/ اگست 2025ء

