رقم الفتوی : 699
السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ بعد سلام عرض ہے کہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ پوری مسجد خالی ہو اس کے باوجود مسجد کے صحن میں نماز پڑھنا کیسا ہے گرمی کے موسم میں حضور تسلی بخش جواب عنایت فرماے مہربانی ہو
سائل : محمد ریحان رضا قادری چہلوی ضلع شراو ستی فقط والسلام
.........................................
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ : صحن مسجد بھی مسجد ہی کا حصہ ہے اور صحن مسجد میں نماز پڑھنے سے نماز ہو جائے گی۔ فتاویٰ رضویہ میں ہے : اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ و الرضوان سے سوال ہوا اور سوال یہ ہے : کوئی شخص باوجود داخل مسجد ہونے کے صحن مسجد میں نماز پڑھے تو اُس کو مسجد کا پورا ثواب ملے گا یا کم؟ تو اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ و الرضوان جواب ارشاد فرماتے ہیں : صحنِ مسجد جزوِ مسجد ہے کما نص علیہ فی الحلیۃ (جیسا کہ حلیہ میں اس پر تصریح ہے۔) اُس میں نماز مسجد ہی میں نماز ہے، پٹے ہوئے درجے کو مسجد شتوی کہتے ہیں یعنی موسم سرما کی مسجد اور صحن کو مسجد صیفی یعنی موسم گرما کی مسجد۔اذان مسجد میں منع ہے،نہ دالان میں اجازت ہے نہ صحن میں۔مسجد میں جنازے کے لئے اجازت نہیں ھو الصحیح (یہی صحیح ہے۔) صحن کسی حکم میں مسجد سے جدا نہیں۔( جلد 8/ صفحہ 73)۔
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی،خادم سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔
08/ ربیع الاول 1447ھ
01/ ستمبر 2025ء
رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_

