تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

میت کے اولاد اور والدین موجود ہوں تو بھائی بہنیں حصہ پائیں گے یا نہیں؟

0
میت کی اولاد اور والدین موجود ہوں تو بھائی بہنیں حصہ پائیں گے یا نہیں؟


رقم الفتوی : 706


السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ.

 کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ زید کا انتقال ہوگیا اور اس نے ماں باپ، ایک بیوی، ایک لڑکا اور ایک لڑکی، تین بھائی اور دو بہن چھوڑے اس صورت میں اس کی جائداد میں کس کو کتنا حصہ ملے گا. قرآن واحادیث کی روشنی میں مفصل جواب عنایت فرمائیں نوازش ہوگی ۔

 المستفتی : محمد منصور عالم رضوی منظری، شیریں پوکھر، سوناپور ہاٹ، اتر دیناجپور، مغربی بنگال۔ 

https://www.saadidarulifta.in/p/sitemap.html

.................................................

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

الجواب بعونہ تعالیٰ : بر تقدیر صدق سوال "بعد تقديم ما تقدم على الإرث وانحصار ورثة في المذكورين" زید کی جائداد منقولہ غیر منقولہ کو بہتر (72) حصے کئے جائیں گے ایک بیٹا کو چھبیس (26) حصے،اور ایک بیٹی کو تیرہ (13) حصے،اور ماں کو بارہ (12)حصے، اور والد کو بارہ (12)حصے، بیوی کو نو (9 )حصے۔اور میت کے بھائی بہنیں محجوب ہو جائیں گے۔ یعنی حصہ نہیں پائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : يُوْصِيْكُمُ اللّـٰهُ فِىٓ اَوْلَادِكُمْ لِلـذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَيَيْنِ"ترجمہ: بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ۔(پارہ4/ سورہ نساء آیت11)۔ قرآن مجید میں دوسری جگہ ہے : وَ لِاَبَوَیْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ اِنْ كَانَ لَهٗ وَلَدٌۚ- ترجمہ : اور میت کے ماں باپ میں ہر ایک کو اس کے ترکہ سے چھٹا اگر میت کے اولاد ہو۔(پارہ4/ سورہ نساء آیت11)۔

https://www.saadidarulifta.in/p/sitemap.html

وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_

کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ

حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی، سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔

16/ ربیع الاول 1447ھ

09/ ستمبر 2025ء 

 رابطــــہ نمبـــر📞 8793969359☎_

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad