تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

بیٹا کو دادا سے بات کرنے سے منع کرنا کیسا ہے؟ بیٹا کس کی بات مانے دادا یا والد کی؟ باپ گناہ کرتا ہوں تو بیٹا اس پر سختی کر سکتا ہے یا نہیں؟

0


بیٹا کو دادا سے بات کرنے سے منع کرنا کیسا ہے؟


رقم الفتوی : 707



السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں.....

زید کے دادا اور والد کے درمیان لڑائی ہو گئی اب زید کے والد زید کو اس کے دادا سے بات چیت کرنے سے منع کر رہے ہیں 

تو زید کے لئے کیا حکم ہے اپنے والد کا حکم مانے گا یا نہیں ؟ 

قرآن وحدیث کے روشنی میں جواب عنایت فرمائیں 

سائل..... محمد رضا،مقام..... چھپڑہ سارن بہار (الہند)

https://www.saadidarulifta.in/p/sitemap.html

...................................................

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

الجواب بعونہ تعالیٰ : صورت مسئولہ میں زید پر والد کی پیروی جائز باتوں میں فرض ہے۔ اور ناجائز باتوں میں پیروی ناجائز۔اور بلا وجہ شرعی دادا سے بات کرنے سے روکنا جائز نہیں۔زید والد کی بات نہ مانے بلکہ دادا سے بات کرے۔اور بیٹا پر ضروری ہے کہ وہ والد سے معافی مانگے اور ناراضی کو ختم کرے۔اور جائز امور میں والدین کی اطاعت کرے اور ان کی ناراضی سے بچے۔اور اپنے کسی بھی فعل سے والدین کو اذیت نہ پہنچائے اور انہیں راضی رکھنے کی بھر پور کوشش کرے کہ اسی میں دین و دنیا کی کامیابی رکھا ہے۔سنن ابی داؤد میں ہے : عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا يحل لمسلم أن يهجر أخاه فوق ثلاث، فمن هجر فوق ثلاث فمات دخل النار۔ترجمہ : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے فرض مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مسلمان کے لیے حلال نہیں کہ اپنے بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑ دے، پھر جس نے ایسا کیا اور مر گیا تو جہنم میں گیا۔(ج4/کتاب الادب،باب فیمن یہجر اخاہ المسلم، صفحہ 279)۔ فتاویٰ رضویہ میں ہے : اطاعت والدین جائز باتوں میں فرض ہے اگرچہ وہ خود مرتکب کبیرہ ہوں ان کے کبیرہ کاوبال ان پر ہے مگر اس کے سبب یہ اُمورِ جائزہ میں ان کی اطاعت سے باہر نہیں ہوسکتا، ہاں اگر وہ کسی ناجائز بات کا حکم کریں تو اس میں ان کی اطاعت جائز نہیں، لاطاعۃ لاحد فی معصیۃ ﷲ تعالی۔(ﷲ تعالیٰ کی نافرمانی میں کسی بھی شخص کی اطاعت نہیں کی جائے گی۔

https://www.saadidarulifta.in/p/sitemap.html

ماں باپ اگر گناہ کرتے ہوں ان سے بہ نرمی و ادب گزارش کرے اگر مان لیں بہتر ورنہ سختی نہیں کر سکتا بلکہ ان کے لئے دعا کرے، اور ان کا یہ جاہلانہ جواب دینا کہ یہ تو ضرور کروں گا یا توبہ سے انکار کرنا دوسرا سخت کبیرہ ہے مگر مطلقاً کفر نہیں جب تک کہ حرام قطعی کو حلال جاننا یا حکم شرع کی توہین کے طور پر نہ ہو، اس سے بھی جائز باتوں میں ان کی اطاعت کی جائے گی ہاں اگر معاذ ﷲ یہ انکار بروجہ کفر ہو تو وہ مُرتد ہو جائیں گے، اور مُرتد کے لئے مسلمان پر کوئی حق نہیں۔ رہا بڑا بھائی وہ ان احکام میں ماں باپ کا ہمسر نہیں، ہاں اسے بھی حق تعظیم حاصل ہے اور بلاوجہ شرعی ایذا رسانی تو کسی مسلمان کی حلال نہیں۔( جلد 25/ صفحہ 205)۔

وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_


کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ

حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی، سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔

29/ ربیع الاول 1447ھ

22/ ستمبر 2025ء 

 رابطــــہ نمبـــر📞 8793969359☎_


Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad