رقم الفتوی 708
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ زید وبکر سے قبرستان کی زمین کو لیکرکچھ گفتگو ہورہی تھی جو کہ زید نے قبضہ کیا ہوا ہے اور اس کا مقدمہ کورٹ میں زیر بحث ہے اسی اشنا میں زید نے کچھ باتوں کے درمیان غصہ کی حالت میں کہا کہ میں مسجد گروا دونگا اور تم لوگ نماز کے لئے ترس جاو گے تو اس بات پر بکر کو غصہ آیا اس نے زید کو دو تین ہاتھ مارا، تو پھر زید نے کہا اگر مسجد نہ گروا دوں تو میں چمار ہوں۔ اسی پر بس نہیں کیا بلکہ وہ تحصیل گیا اور مسجد پر اسٹے کو لیکر چند وکیلوں سے بات بھی کی۔
عرض یہ ھیکہ زید وبکر پر حکم شرع بیان فرمائیں نوازش ہوگی ۔
فقط والسلام ۔
المستفتی ۔ حافظ محمد اکرم قادری سمگڑہ شراوستی یوپی
https://www.saadidarulifta.in/p/sitemap.html
.............................................
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ : اگر قبرستان کی زمین وقف ہے اور اس پر زید نے قبضہ کیا ہوا ہے تو یہ سخت ناجائز و حرام ہے۔زید پر ضروری ہے کہ اپنا قبضہ ہٹا لے۔
صورت مسئولہ میں مسجد کی زمین وقف ہوتی ہے اور وقف کی ہوئی چیزیں وہ کسی کی ملکیت میں نہ رہتی ہے خالص اللہ تعالی کی مملوکہ ہے اور پھر زید کا اس طرح جملہ کہنا "میں مسجد گروا دونگا اور تم لوگ نماز کے لئے ترس جاؤ گے" وغیرہ وغیرہ۔یہ سخت ناجائز و حرام ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے :وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسَاجِدَ اللّـٰهِ اَنْ يُّذْكَـرَ فِيْـهَا اسْمُهٝ وَسَعٰى فِىْ خَرَابِـهَا ۚ اُولٰٓئِكَ مَا كَانَ لَـهُـمْ اَنْ يَّدْخُلُوْهَا اِلَّا خَآئِفِيْنَ ۚ لَـهُـمْ فِى الـدُّنْيَا خِزْيٌ وَّلَـهُـمْ فِى الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِـيْمٌ۔ ترجمہ: اُن سے بڑھ کر ظالم کون جو ﷲ کی مسجدوں کو اُن میں ﷲ کا نام لئے جانے سے روکیں اور اُن کی ویرانی میں کوشاں ہو انھیں تو مسجدوں میں قدم رکھنا روا نہ تھا مگر ڈرتے ہوئے ان کے لئے دنیا میں رسوائی اور ان کے لئے آخرت میں بڑا عذاب ہے ( سورہ بقرہ آیت 114)۔فتاویٰ ہندیہ میں ہے : ولا يباع ولا يوهب ولا يورث. ترجمہ: وقف کی زمین نہ خرید وفروخت ہو سکتی ہے نہ کسی کو ہبہ کیا جاسکتا ہے اور نہ اس میں وراثت جاری ہوگی۔( ج 2 کتاب الوقف، وہو مشتمل علی اربعۃ عشر بابا صفحہ 350)۔درمختار میں ہے : فيلزم فلا يجوز له أبطاله ولا يورث عنه وعليه الفتوي ابن الكمال وابن الشحنه . ترجمہ : تو وہ لازم ہو جائے گا اب اس کا ابطال یا وراثت بنانا جائز نہیں، اسی پر فتویٰ ہے، ابن کمال وابن شحنہ۔ (ج 6 کتاب الوقف صفحہ 554)۔ہدایہ آخرین میں ہے : ولا يباع ولا يوهب ولا يورث. ترجمہ : وقف کی زمین نہ خرید وفروخت ہو سکتی ہے نہ کسی کو ہبہ کیا جاسکتا ہے اور نہ اس میں وراثت جاری ہوگی۔( ج1 کتاب الوقف صفحہ 637)۔
https://www.saadidarulifta.in/p/sitemap.html
( ا )
اگر واقعی ہی زید نے یہ جملہ کہا ہے " اگر مسجد نہ گروا دوں تو میں چمار ہوں" تو لفظ چمار کا لغوی معنی جوتیاں سینے یا گانٹھنے والا۔ اگر زید نے چمار سے لغوی معنی مراد لیا ہو تو تب بھی اس طرح کا جملہ استعمال کرنا جائز نہیں ہے۔اگر صرف چمار ذات، غیروں میں موجود ہوں اور وہ غیر قوم کے ساتھ خاص ہو۔اور لفظ چمار بولنے سے غیر قوم ہی شمار ہوتا ہو تو ایسی صورت میں یہ جملہ کہنا کہ میں چمار ہوں یہ جملہ کفر ہے اور زید پر فرض ہےکہ وہ از سر نو کلمہ پڑھ کر پھر سے مسلمان بنے، بیوی والا ہو تو تجدید نکاح کرے،اگر وہ کسی سے مرید ہو تو تجدید بیعت بھی کرے۔ فتاویٰ ہندیہ میں ہے : ولو قال چندان برنجانیدی که كافر خواستم شدن يكفر ۔ ترجمہ : اگر یوں کہا جائے کہ تو نے مجھے یہاں تک رنج پہنچایا کہ میں نے چاہا کہ کافر ہو جاؤں تو تکفیر کیا جائیگا۔( ج2/ کتاب السیر، صفحہ 278)۔ اسی میں ہے : قالت إن لم تشتري كذا لكفرت كفرت في الحال كذا في الفصول العمادية. ترجمہ : اگر تو نے میرے واسطے فلاں چیز نہ خریدی تو میں کافرہ ہو جاؤں گی تو وہ فی الحال کافرہ ہو جائے گی۔( ج2/ کتاب السیر، صفحہ 279)۔الاشباہ والنظائر میں ہے : لا يكون مسلما بمجرد نية الاسلام بخلاف الكفر ۔ ترجمہ : صرف اسلام کی نیت سے مسلمان نہیں ہوگا بر خلاف کفر کہ۔(القاعدۃ الاولی، صفحہ 76) فتاویٰ رضویہ میں اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ والرضوان ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں کہ جس نے جس فرقہ کا نام لیا اس فرقہ کا ہوگیا مذاق سے کہے یا کسی دوسری وجہ سے ۔(جلد 14/ صفحہ 583)۔
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی، سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔
29/ ربیع الاول 1447ھ
22/ ستمبر 2025ء
رابطــــہ نمبـــر📞 8793969359☎_

