رقم الفتوی : 704
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
مسئلہ یہ ہے کہ کونڈے کی فاتحہ کے برتن کو پھینکنا یا دوبارہ استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟
سائل : بندئہ خدا
https://www.saadidarulifta.in/p/sitemap.html
...........................................
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ : کونڈے کی فاتحہ کے برتن جو قابل استعمال ہوں،ان کو پھینکنا ہرگز جائز نہیں کہ یہ بلاوجہ شرعی مال کو ضائع کرنا ہے، اور بلا وجہ شرعی مال ضائع کرنا، ناجائز وگناہ ہے۔ان کونڈوں کے برتن کو گھر میں رکھ سکتے ہیں، استعمال میں لاسکتے ہیں اور آئندہ سال رجب وغیرہ کی نیاز میں انہیں کونڈوں کو دوبارہ بھی استعمال کر سکتے ہیں۔بخاری شریف میں ہے: ” عن الشعبي يقول ان الله کره لكم ثلاثا قیل و قال و اضاعة المال وكثرة السوال “ حضرت شعبی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بے شک اللہ تعالی نے تمہارے تین کاموں کو ناپسند فرمایا فضول باتیں کرنا، مال کو ضائع کرنا اور زیادہ سوال کرنا۔ (کتاب الزکوۃ،باب قول الله تعالی لا یسئلون الناس الحافا الخ، صفحہ 220)۔فتاوی رضویہ میں ہے: اضاعت مال نا جائز ہے۔ ( جلد 20/ صفحہ 455)۔
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی، سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔
13/ رجب المرجب 1447ھ
3/ جنوری 2026ء
رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎_

