رقم الفتوی : 710
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
ایک مسئلہ جاننا تھا۔ ہمارے عقائد کے علماء سے ۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مفتیان اہلسنت اس سوال پہ کہ۔گھریلو ماحول میں میاں بیوی کی جھگڑے میں۔ دونوں بھی ایک دوسرے پہ غصہ میں ہوں عورت غصہ میں اپنے شوہر سے کہـے تم میرے قریب نہ آئو۔ مجھے طلاق دے دو۔ آپ کا میرا کچھ اب تعلق نہیں۔ میں تمھیں اپنے نکاح سے خارج کرتی ہوں۔ ایسے الفاظ عورت اپنے شوہر کو کہے۔شوہر ایسے باتوں کو نظر انداز کرکے غصہ کم ہونے بعد دونوں کی زندگی حزبِ معلوم زندگی گزار رہی ہو۔شوہر کی جانب سے طلاق یا طلاق جیسے الفاظ نہیں ہیں۔جب عورت ایسے الفاظ نکاح خارج کرنے کے لیے کہہ۔بار بار غصہ میں کہے تو نکاح کا حکم شرع کیا ہو گا رہنمائی فرمائیں۔
https://www.saadidarulifta.in/p/sitemap.html
سائل : محمد شاہد اشرف میسور
.....................................
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ : طلاق دینے کا حق صرف مرد کو ہے عورت کو نہیں۔اگر چہ عورت نے نکاح سے نکلنے کے لئے کہا ہو اس سے نکاح میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔ جب تک مرد طلاق نہ دی ہو۔اللہ تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے : بِیَدِهٖ عُقْدَةُ النِّكَاحِؕ۔ ترجمہ : جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے ( پارہ 2 سورہ بقرہ آیت 237)۔
https://www.saadidarulifta.in/p/sitemap.html
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی، سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔
29/ ربیع الاول 1447ھ
22/ ستمبر 2025ء
رابطــــہ نمبـــر📞 8793969359☎_

