رقم الفتوی : 710
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
سوال جمہوری حکومت میں بینک سے جو بیاز ملتی ہے زید کا کہنا ہے کہ وہ بیاز کا روپیہ لینا درست ہے لیکن کھانا جائز نہیں ہے اسکے بارے میں کیا حکم ہے جواب منگوایں فقط والسلام
سائل : بندئہ خدا
https://www.saadidarulifta.in/p/sitemap.html
...................................
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ : جمہوری حکومت ہند کے بینک میں روپے جمع کرنے پر جو زائد رقم ملتی ہے وہ بیاز نہیں، وہ مال مباح ہے اور مال مباح کا حصول جائز ہے۔تو اس کا لینا بھی جائز ہے اور اس کا کھانا بھی جائز ہے۔ اگر چہ جمہوری حکومت ہند کے بینک بیاز ہی کہہ کر دے مگر مسلمان زیادتی بیاز سمجھ کر نہ لے بلکہ ایک مال مباح سمجھ کر لے۔ اس لیے کہ مسلمان اور غیر مسلم کے مابین سود کا تحقق نہیں۔حدیث پاک میں ہے : قوله عليه السلام لاربابين المسلم والحربي في دارالحرب۔ ترجمہ: مسلمان اور حربی کے درمیان دار الحرب میں کوئی سود نہیں (ہدایہ ج2 باب الربا صفحہ 86) فتح القدیر میں ہے : ولأبي حنيفة ومحمد ماروي مكحول عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال ولاربابين المسلم والحربي في دارالحرب ذكره محمد بن الحسن ولأن مال اهل الحرب في دارهم مباح بالاباحةالاصلية والمسلم المستأمن إنما منع من أخذه لعقدالامان حتى لا يلزم الغدر فاذابذلك الحربي ماله برضاه زال المعني الذي حظر لأجله.( ج7 باب الربا صفحہ 39) بحر الرائق میں ہے : الحديث لا ربا بين المسلم والحربي في دارالحرب ولأن مالهم مباح يعقد الامان منهم لم يصرمعصوما الا انه التزم أن لا يعترض لهم بغدر.( ج 6 باب الربا صفحہ 226) درمختار مع ردالمحتار میں ہے : و لا بين حربي ومسلم مستأمن ولو بعقد فاسد أو قمار ثمة لان ماله ثمة فيحل برضاه مطلقاً بلا غدر لان ماله غير معصوم فلا ربا إتفاقا ولم يهاجرا لا يستحق الربا بينهما أيضا. ( ملخصا ج7 باب الربا صفحہ 423)۔اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ فتاویٰ رضویہ میں تحریر فرماتے ہیں : یہاں کے کفار سے ایسی شرط جائز ہے لانھم غیر اھل ذمة ولامستامن (کیونکہ نہ تو وہ ذمی ہیں نہ مستامن) مگر یہ زیادت جو ملے اسے سود سمجھ کر نہ لے بلکہ مال مباح۔(۲) یہاں کے کفار سے جس طور ہو جائز ہے۔لان مالھم مباح فی دارھم فبای طریق اخذہ المسلم اخذ مالا مباحا إذا لم یکن فیه غدر کما فی الھدایۃ و غيرها. ترجمہ : اس لئے کہ کفا رکا مال دار الحرب میں مباح ہے لہٰذا جس طریقے سے بھی مسلمان نے اس کو لیا تو اس نے مباح مال لیا بشرطیکہ دھوکا بازی نہ ہو، جیسا کہ ہدایہ وغیرہ میں ہے۔ ( جلد 17 صفحہ 350)۔
https://www.saadidarulifta.in/p/sitemap.html
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی، سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔
10/ ربیع الاخر 1447ھ
3/ اکتوبر 2025ء
رابطــــہ نمبـــر📞 8793969359☎_

