رقم الفتوی : 711
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اوجھڑی کھا کر اگر کوئی شخص روزہ رکھے تو روزہ ہوگا یا نہیں دلائل کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں
سائل : محمد صاحب علی مالدہ
https://www.saadidarulifta.in/p/sitemap.html
..............................................
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالیٰ :اوجھڑی کھانا مکروہ تحریمی ہے اور مکروہ تحریمی کا گناہ حرام کے مثل ہے اور ہر مکروہ تحریمی استحقاق جہنم کا سبب ہے اور اوجھڑی نہ کھانا واجب ہے۔لہذا صورت مسئولہ میں اوجھڑی یا حرام چیزیں کھا کر روزہ رکھنے سے روزہ ذمہ سے ساقط ہو جائے گا لیکن حرام چیز کھانے کی وجہ سے اس کا گناہ الگ سے ملے گا۔مختصر قدوری میں ہے : والصوم هو الإمساك عن الأكل والشرب والجماع نهارا مع النية ۔ (کتاب الصوم )فتاویٰ رضویہ میں ہے : بیشک صورتِ مستفسرہ میں فرض ساقط ہوگیا فان الصوم انماھو الامساک من المفطرات الثلثة من الفجر الی اللیل۔(روزہ صبح سے لے کر شام تک تین چیزوں (کھانا، پینا اور ہمبستری) سے رک جانا ہے۔ت)سحری کھانا یا افطار کرنا روزے کی حقیقت میں داخل نہ اس کی شرائط سے،پھر اگر یہ مالِ حرام سے واقع ہوئی تو اس کا گناہ جُدا رہا مگر سقوطِ فرض میں شبہ نہیں۔( جلد 10 صفحہ 330)۔
https://www.saadidarulifta.in/p/sitemap.html
وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی، سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔
7/ رمضان المبارک 1447ھ
25/ فروری 2026ء
رابطــــہ نمبـــر📞 8793969359☎_

