تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

عید گاہ میں نماز جنازہ پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟

0


عید گاہ میں نماز جنازہ پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟

رقم الفتوی : 714



السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ عید گاہ میں نماز جنازہ پڑھ سکتے ہیں یا نہیں۔

سائل : بندئہ خدا 


https://www.saadidarulifta.in/p/sitemap.html


وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

الجواب بعونہ تعالیٰ : نماز جنازہ کی جماعت عیدگاہ کے اندر پڑھنا جائز اور شرعا کوئی حرج نہیں۔درمختار مع رد المحتار میں ہے: "واما المتخذ لصلوة جنازة أو عيد، فهو مسجد في حق جواز الاقتداء لا في حق غيره فحل دخوله لجنب حائض كفناء المسجد ورباط ومدرسة.( ج2/كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة و ما يكره فیها،صفحہ 430)۔حاشیۃ الطحطاوي على مراقى الفلاح میں ہے : لاتکرہ فی۔۔ مدرسة،و مصلى عيد لانه ليس لها حكم المسجد فى الاصح الا في جواز الاقتداء۔ترجمہ : مدرسہ اور عیدگاہ میں نماز جنازہ مکروہ نہیں، اس لیے کہ اصح قول کے مطابق (عیدگاه) حکم مسجد میں داخل نہیں البتہ جواز اقتدا میں مسجد کے حکم میں ہے۔(کتاب الصلاۃ،باب احكام الجنائز، فصل : السلطان أحق بصلاته، صفحہ 326)۔حضور فقیہ الملت والدین مفتی جلال الدین احمد قبلہ امجدی علیہ الرحمۃ والرضوان فتاوی فیض الرسول میں تحریر فرماتے ہیں کہ نماز جنازہ عیدگاہ کے احاطہ اور مدرسہ میں بھی پڑھی جاسکتی ہے۔(ج1/ صفحہ 446)۔



https://www.saadidarulifta.in/p/sitemap.html


وﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم_

کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ

حضرت مفتی مظہر حسین سعدی رضوی برکاتی، سعدی دار الافتاء،متوطن: نل باڑی، سونا پور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال،الہند۔

17/ شوال المکرم 1447ھ

6/ اپریل 2026ء 

 رابطــــہ نمبـــر📞 8793969359☎_

Post a Comment

0 Comments

Top Post Ad

Below Post Ad