تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

Haququl ebad ki adae gi Qur'an and Hadith ke noqtae nazar me??____حقوق العباد کی ادائیگی قرآن واحادیث کے نقطئہ نظر میں؟؟

1

Haququl ebad ki adae gi Qur'an and Hadith ke noqtae nazar me??

حقوق العباد کی ادائیگی قرآن واحادیث کے نقطئہ نظر میں


  از قلم: محمد مظہر حسین سعدی رضوی غفی عنہ ویسٹ بنگال الہند۔


https://www.saadidarulifta.in/p/sitemap.html

     آج کے اس پر فتن ماحول میں لوگ بسا اوقات کسی کی ناجائز محبت کے دام میں آکر حقوق العباد کی پامالی شروع کر دیتے ہیں۔ یاد رکھیں جس طرح حقوق اللہ کی ادائیگی ضروری ہے اسی طرح حقوق العباد کا خیال رکھنا بھی ضروری ہےکیونکہ حقوق العباد میں کوتاہی کرنا حق اللہ کی ادائیگی سے بہت سخت ہے؟۔اسلام ہی ایک وہ مذہب ہے جس نے انفرادی طور پر معاشرے میں ہر ایک کا حق مقرر کیا ہے مگر  آج ہر کوئی اپنا حق لینے کے لیے فتنہ وفساد برپا کرنے پر تیار ہو جاتا ہے، یاد رکھیں جب تک حقوق العباد یعنی وہ حقوق جو بندوں سے متعلق ہیں اگر وہ معاف نہ کریں تو معاف نہ ہوں گے۔


   اللہ عَزَّوَجَلَّ نے کئی مقامات پر حقوق العباد کی ادائیگی کا حکم فرمایا ہے۔

مثلاً : "وَ اٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ" ترجمہ: اور رشتہ داروں کو ان کا حق دے اورمسکین اور مسافر کو۔

( سورہ بنی اسرائیل آیت ٢٦)

دوسری جگہ ہے: "وَ فَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ "ترجمہ: اور رشتہ داروں کو ان کا حق دے اورمسکین اور مسافر کو(سورہ روم آیت ٣٨ )

تیسری جگہ ہے : وَ اِيْتَآئِي ذِي الْقُرْبٰى" ترجمہ: اور رشتہ داروں کو دینے کا(سورہ نحل آیت ٩٠ )

https://www.saadidarulifta.in/p/sitemap.html

  حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی مقامات پر حقوق العباد کی ادائیگی کا حکم فرمایا ہے، ایک جگہ فرماتے ہیں:" عن ابي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لا تحاسدوا، ولا تناجشوا، ولا تباغضوا، ولا تدابروا، ولا يبع بعضكم على بيع بعض، وكونوا عباد الله إخوانا، المسلم اخو المسلم : لا يظلمه ولا يخذله ولا يحقره، التقوى هاهنا، ويشير إلى صدره ثلاث مرات، بحسب امرئي من الشر ان يحقر اخاه المسلم، كل المسلم على المسلم حرام : دمه، وماله، وعرضه" ترجمہ: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مت حسد کرو، مت دھوکے بازی کرو، مت بغض رکھو، مت دشمنی کرو، کوئی تم میں سے دوسرے کی بیع پر بیع نہ کرے اور ہو جاؤ اللہ کے بندو بھائی بھائی ۔مسلمان  مسلمان کا بھائی ہے نہ اس پر ظلم کرے، نہ اس کو ذلیل کرے، نہ اس کو حقیر جانے، تقویٰ اور پرہیزگاری یہاں ہے اور  اشارہ  کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سینے کی طرف تین بار (یعنی ظاہر میں عمدہ اعمال کر نے سے آدمی متقی نہیں ہوتا جب تک سینہ اس کا صاف نہ ہو) کافی ہے آدمی کو یہ برائی کہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے، مسلمان کی سب چیزیں دوسرےمسلمان پر حرام ہیں اس کا خون، مال، عزت اور آبرو۔(مسلم شریف، كتاب البر و الصلة والاداب، باب تحريم الظلم المسلم الخ )

https://www.saadidarulifta.in/p/sitemap.html

دوسری جگہ فرماتے ہیں : عن ابي هريرة  رضي الله عنه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:"من كانت له مظلمة لاحد من عرضه او شيء فليتحلله منه اليوم، قبل ان لا يكون دينار ولا درهم، إن كان له عمل صالح اخذ منه بقدر مظلمته، وإن لم تكن له حسنات اخذ من سيئات صاحبه فحمل عليه" ترجمہ:  ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اگر کسی شخص کا ظلم کسی دوسرے کی عزت پر ہو یا کسی طریقہ (سے ظلم کیا ہو) تو آج ہی، اس دن کے آنے سے پہلے معاف کرا لے جس دن نہ دینار ہوں گے، نہ درہم، بلکہ اگر اس کا کوئی نیک عمل ہو گا تو اس کے ظلم کے بدلے میں وہی لے لیا جائے گا اور اگر کوئی نیک عمل اس کے پاس نہیں ہو گا تو اس کے (مظلوم) ساتھی کی برائیاں اس پر ڈال دی جائیں گی۔( صحیح بخاری، كتاب المظالم والغضب، باب من كانت له مظلمة عند الرجل الخ)

    

  حقوق العباد میں کوتاہی کے معاملے میں زیادہ تر لوگ ایک دوسرے کے مال کو باطل طریقے سے ہڑپ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ بھی ایک بہت بڑا ظلم ہے۔اسی نکتہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تبارک وتعالیٰ معتدد مقامات پر ارشاد فرماتا ہے مثلاً : " وَلاَ تَأْكُلُوْا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ " ترجمہ: آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ۔ ( سورہ بقرہ آیت ١٨٨)

دوسری جگہ ہے : " وَلاَ تَأْكُلُوْا أَمْوَالَهُمْ اٖلَيٰ أَمْوَالِكُمْ " ترجمہ : اور ان کے مال اپنے مالوں میں ملا کر نہ کھا جاؤ ( سورہ نساء آیت٢) تیسری جگہ ہے : " إِنَّمَا يَأْكُلُوْنَ فِي بُطُوْنِهِمْ نَارًا وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيْرًا " ترجمہ : وہ تو اپنے پیٹ میں نری آگ بھرتے ہیں اور کوئی دم جاتا ہے کہ بھڑکتے دھڑے ( بھڑکتی آگ ) میں جائیں گے ( سورہ نساء آیت ١٠ )

چوتھی جگہ ہے : " يَا أَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوا لاَ تَأْكُلُوْا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ" ترجمہ : اے ایمان والو آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ۔ (سورہ نساء آیت ٢٩)

  ان آیاتوں میں ایک دوسرے کے حقوق کو برقرار رکھنے کا حکم دیا گیا ہےآج ہم ان لوگوں کی محبت میں اندھا بن گئے ہیں کہ غلبئہ محبت کی وجہ سے اپنے محبوب یا محبوبہ کا  عیب نہ دیکھنے کی صلاحیت باقی رکھتے ہیں اور نہ سنے کی، اسی نکتہ کی طرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس ارشاد میں اشارہ فرمایا۔ " قال حبك الشئ يعمي ويصم " ترجمہ: آپ نے فرمایا کسی چیز سے تمہارا محبت کرنا تم کو اندھا اور بہرا بنادیتی ہے (سنن ابو داؤد، كتاب الادب،باب في الهوي ) 

  کیونکہ دل میں جب کسی کی کوئی بات سماجاتی ہے تو آدمی عادت جاریہ کے خلاف کچھ قبول نہیں کرتااگر کوئی بات اس کے خلاف پڑھتا ہے تو حلق کے نیچے نہیں اترتی۔اور سنتا ہے تو کان سے آگے نہیں بڑھتی جب کہ رب العزت ان لوگوں کو حکم دیتا ہے کہ تم بھلائی کا حکم دو اور برائیوں سے روکو۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں معتدد مقامات پر ارشاد فرماتا ہے مثلاً : "وَلْتَكُنْ مِّنْكُمْ أُمَّةٌ يَّدْعُوْنَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمَرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَاُوْلٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ " ترجمہ: اور تم میں ایک گروہ ایسا ہونا چاہئے کہ بھلائی کی طرف بلائیں اور اچھی بات کا حکم دیں اور برائی سے منع کریں اور یہ لوگ مراد کو پہنچے۔

(سورة آل عمران آيت ١٠٤)

دوسری جگہ ہے: "كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ وَتَأْمَرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ تُؤْمِنُوْنَ بِاللهِ" ترجمہ: تم بہتر ہو ان سب امتوں میں جو لوگوں میں ظاہر ہوئیں بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو ( سورة آل عمران آيت ١١٠)

تیسری جگہ ہے:"وَيَأْمَرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُسَارِعُوْنَ فِي الْخَيْرَاتِ وَاُوْلٰئِكَ مِنَ الصَّالِحِيْنَ"ترجمہ: اور بھلائی کا حکم دیتے اور برائی سے منع کرتے ہیں اور نیک کاموں پر دوڑتے ہیں اور یہ لوگ لائق ہیں ( سورة آل عمران آيت١١٤) 

چوتھی جگہ ہے:" وَيَأْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيْبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمِ الخَبَآئِثَ" ترجمہ: وہ انہیں بھلائی کا حکم دے گا اور برائی سے منع فرمائے گا ستھری چیزیں ان کے حلال فرمائے گااور گندی چیزیں ان پر حرام کرے گا ( سورة الأعراف آيت ١٥٧) پانچویں جگہ ہے :"وَيَأْمَرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ " ترجمہ:بھلائی کا حکم دیتے اور برائی سے منع کرتے ہیں ( سورة التوبة آيت ٧١) 

چھٹی جگہ ہے :" وَأَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَهُوْا عَنِ الْمُنْكَرِ" ترجمہ: اور بھلائی کا حکم کریں اور برائی سے روکیں ( سورة الحج آيت ٤١) ساتویں جگہ ہے:" وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ" ترجمہ: اور اچھی بات کا حکم دے اور بری بات سے منع کر ( سورة القمان آيت ١٧) 

   حدیث نبوی ہے: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: " من راى منكم منكرا فليغيره بيده، فإن لم يستطع فبلسانه، فإن لم يستطع فبقلبه، وذلك اضعف الإيمان " ترجمہ:  میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص تم میں سے کسی منکر (خلاف شرع) کام کو دیکھے تو اس کو مٹا دے اپنے  ہاتھ  سے،اگر اتنی طاقت نہ ہو تو زبان سے،اور اگر اتنی بھی طاقت نہ  ہو  تو دل ہی سے سہی  (دل میں اس کو برا جانے اور اس سے بیزار  ہو) یہ سب سے کم درجہ کا ایمان ہے۔"(صحیح مسلم، کتاب الایمان، بيان كون النهي عن المنكر من الايمان إلخ)حدیث نبوی ہے : لاطاعة لاحد فی معصیة ﷲ تعالي. ترجمہ: ﷲ تعالی کی نافرمانی میں کسی بھی شخص کی اطاعت نہیں کی جائے گی۔(کنز العمال، حدیث ١٤٨٧٤)

https://www.saadidarulifta.in/p/sitemap.html

  لیکن اس کے باوجود لوگوں کی طبیعتیں اس درجہ خود فراموش ہوئی ہیں اس کی برائیاں اس کی آنکھوں میں اچھا سمجھ کر مطمئن ہو جاتے ہیں اس وقت اس کی برائی اچھائی بن جاتی ہے اور اچھائی برائی دیکھنے لگتا ہےحدیث نبوی ہے: عن المصطفى صلى الله عليه وسلم ويكذب الصادق ويصدق الكاذب. ترجمہ: سچے کو جھوٹا اور جھوٹے کو سچا سمجھا جانے لگتا ہے ( المعجم الاوسط، حدیث ٨٦٣٨ )

   بات تو یہ تھی کہ اس برائی کو دیکھ کر دفع کرتے اور حقوق العباد کو ادا کرتے اور شریعت مطہرہ پر اتباع کا حکم دیتے نہ کہ قناعت کر کے بیٹھ رہنے اور نہ سننے کا۔ یا سن کر ان سنی کر دینے کا۔ ایسے لوگ قرآن سے کچھ مستفید نہیں ہوتے۔ نفع تو ان لوگوں کو پہنچتا ہے جو ارادئہ قلبی اور سماع حضور کے ساتھ سنتے ہیں اور شریعت مطہرہ پر خود عمل کرتے ہیں اور دوسرے کو کرواتے بھی ہیں۔ محبت مونث ہے محبت انسان کو اندھا بہرا بنا دیتی ہے 


    یہ عنوان مزید تفصیل کا متقاضی ہے  لیکن یہ مختصر سا مقالہ اس کا متحمل نہیں ہو سکتا مزید معلومات کے لئے امامِ اہل سنت رحمہ اللہ کے رسالے"والدین، زوجین اوراساتذہ کے حقوق" کی طرف رجوع فرمائیں


   اللہ تبارک و تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا گو ہوں  کہ ہم سب کو ایسے اندھا بہرا بننے سے بچائے اور برے کاموں سے رکنے اور اچھے کاموں کا حکم دینے، دوسرے کے حقوق کو ادا کرنے کی  توفیق رفیق عطا فرمائے۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم


   از قلم :  مفــــتی محمــــــد مظـــہر حســـین سعـــدی رضـــوی ،خـــادم سعدی دار الافتاء،متوطن : نـــل باڑی، سوناپور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال الہند۔ 

 *2/ ذی الحجہ 1441ھ*

*رابطــــہ نمبــــر ....⇩⇩*

*📲+9 1 8 7 9 3 9 6 9 3 5 9 🪀*

*=====================

Tags

Post a Comment

1 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Top Post Ad

Below Post Ad