تلاش کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہاں ٹائپ کریں۔

Batae par bakri le kar nisf nisf lena kaisa hai --------- بٹائی پر بکری لے کر نصف نصف لینا کیسا ہے؟؟

2

Batae par bakri le kar nisf nisf lena kaisa hai ---------

 

 بٹائی پر بکری لے کر نصف نصف لینا کیسا ہے؟؟

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ میں کہ
زید نے ایک بکری کا بچہ عمر کو دے دیا  اور کہا اس کو پالو جب  اس سے بچے ہوجائیں گے تو دونوں  تقسیم کرلیں گے  ایک ہوا تو ایک تمہارا اور ایک ہمارا اگر ایک ہوا تو اس کو بیچ کر رقم تقسیم کرلیں گے کیا ایسا کرنا شرعی لحاظ سے جائز ہے یا نہیں 
جواب عنایت فرما دیں نوازش ہوگی

محمد الیاس چشتی لودھراں پاکستان 
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
الجواب بعونہ تعالی
صورت مسئولہ میں بکریاں وغیرہ بٹائی پر دینا اور جب اس بکری سے بچہ پیدا ہو نصف نصف لینا شرعاً جائز نہیں بلکہ جس کی بکری ہے بچہ بھی اس کی ہے دوسرے کو اس کے کام کی اجرت مثل ملے گی۔

رد المحتار میں ہے : دفع البقرة بالعلف ليكون الحادث بينهما نصفين، فما حدث فهو لصاحب البقرة للآخر مثل علفه وأجر مثله.(ج 6 کتاب الشرکة،فصل فی الشرکة الفاسدة صفحہ 504)فتاویٰ ہندیہ میں ہے : دفع بقرة الي رجل علي أن يلعفها وما يكون من اللبن والسمن بينهما انصافا فالاجارة فاسدة وعلي صاحب البقرة للرجل أجر قيامه . ( ج4 الفصل الثالث فی قفیز الطحان الخ صفحہ 445) فتاویٰ رضویہ میں ہے : یہ اجارہ حرام ہے کئی وجوہ سے ایک جہالت، ایک دھوکا، ( جلد 19 صفحہ 505)۔

بہار شریعت جلد سوم میں ہے : بعض لوگ بکری بٹائی پر دیتے ہیں کہ جو کچھ بچے پیدا ہوں گے دونوں نصف نصف لیں گے یہ اجارہ بھی فاسد ہے بچے اُسی کے ہیں جس کی بکری ہے دوسرے کو اُس کے کام کی اُجرت مثل ملے گی۔( حصہ 14 صفحہ 151)۔۔

واللہ تعالیٰ اعلم
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ
حضرت مفتی محمد مظہر حسین سعدی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی،خادم سعدی دار الافتاء، متوطن : نل باڑی، سوناپور ہاٹ، اتردیناجپور، ویسٹ بنگال الہند
*19/ ربیع الاول 1442ھ*
*6/ نومبر 2020ء*
*_رابطــــہ نمبــــر📞 8793969359☎*_
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

Post a Comment

2 Comments
  1. हज़रत हिंदी में मसला बताए हम उर्दू नहीं पढ़ें है

    ReplyDelete
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Top Post Ad

Below Post Ad